اسوہء انسانِ کامل — Page 321
اسوہ انسان کامل 321 نبی کریم کا انفاق فی سبیل اللہ اور جود و سخا آیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے چار درہم میں ایک قمیص خریدا وہ چلا گیا تو آپ نے وہ قمیص زیب تن فرما لیا۔اچانک ایک حاجت مند یا۔اس نے آ کر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی قمیص عطا فرمائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو جنت کے لباس میں سے کپڑے پہنائے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی نیا قمیص اتار کر اسے دے دیا۔پھر آپ دوکاندار کے پاس گئے اور اس سے ایک اور قمیص چار درہم میں خرید لیا۔آپ کے پاس ابھی دو درہم باقی تھے۔راستہ میں اچانک آپ کی نظر ایک لونڈی پر پڑی جو بیٹھی رو رہی تھی۔آپ نے پوچھا کیوں روتی ہو؟ کہنے لگی یا رسول اللہ ! مجھے اپنے مالکوں نے دو درہم دے کر ٹا خرید نے بھیجا تھا اور ہم گم ہو گئے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی دو درہم اسے دے دیئے مگر وہ پھر بھی روتی جارہی تھی۔آپ نے اسے بلا کر پوچھا کہ اب کیوں روتی ہو؟ وہ کہنے لگی اس خوف سے کہ گھر والے ( تاخیر ہو جانے کے سبب ) سزا دیں گے۔آپ اس بچی کے ساتھ ہو لئے اور اس کے گھر تشریف لے گئے۔گھر والے تو خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔کہنے لگے ہمارے ماں باپ آپ پر قربان آپ نے کیسے قدم رنجہ فرمایا ؟ آپ نے (تفصیل بتا کر فرمایا یہ آپ کی لونڈی ڈرتی تھی کہ آپ لوگ اسے سزا دو گے۔اس کی مالکہ بولی کہ خدا کی خاطر اور آپ کے ہمارے گھر چل کر آنے کے سبب میں اسے آزاد کرتی ہوں۔رسول کریم ﷺ نے اُسے جنت کی بشارت دی اور فرمایا ” دیکھو اللہ تعالیٰ نے ہمارے دس درہموں میں کیسی برکت ڈالی ؟ ان درہموں میں اپنے نبی کو قمیص بھی عطا کر دی، ایک انصاری کے لئے بھی قمیص کا انتظام کیا اور ایک لونڈی کی گردن بھی آزاد کر دی۔میں اللہ کی حمد اور تعریف کرتا ہوں جس نے اپنی قدرت سے یہ سب کچھ عطا فر مایا۔“ ( بیشمی ) 38 جود وسخا کے حیرت انگیز نظارے فتوحات کے زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت کثرت سے اموال آئے مگر جیسا کہ آپ کی دلی خواہش تھی آپ نے دونوں ہاتھوں سے وہ مال خدا کی راہ میں لٹائے اور ایک درہم بھی اپنی ذات کے لئے بچا کر رکھنا پسند نہ فرمایا اللہ تعالیٰ پر آپ کا کامل تو کل تھا اور وہی ہر ضرورت میں آپ کا متکفل ہوتا تھا۔ایک دفعہ آپ تعصر کی نماز پڑھا کر خلاف معمول تیزی سے گھر تشریف لے گئے۔واپس آئے تو صحابہ نے اس جلدی کی وجہ دریافت کی۔آپ نے فرمایا ” مجھے نماز میں خیال یا کہ سونے کا ایک ٹکڑا اتقسیم ہونے سے رہ گیا تھا۔مجھے یہ بات گوارا نہ تھی کہ وہ ایک دن کے لئے بھی ہمارے گھر میں پڑا رہ جاتا۔میں اسے تقسیم کر یا ہوں۔“ (بخاری) 39 اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے آپ کامل ایمان رکھتے تھے کہ اللہ تعالی رازق ہے جس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔وہ خرچ کرنے پر عطا کرتا اور مال کو اور بڑھاتا ہے۔ایک دفعہ آپ اپنے خادم اور خزانچی بلال کے پاس تشریف لائے اور کھجور کا ایک ڈھیر دیکھ کر استفسار فرمایا بلال ! یہ کھجور میں کیسی ہیں؟ بلال نے عرض کیا کہ آئندہ کے لئے ذخیرہ کرنے کا ارادہ ہے۔آپ نے فرمایا کیا تم اس بات سے