اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 320 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 320

اسوہ انسان کامل 320 نبی کریم کا انفاق فی سبیل اللہ اور جود و سخا والے بھی آپ سے راضی اور خوش ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ میرے صحابہ کے سامنے بھی جا کر یہ اظہار کر دینا کیونکہ تم نے ان کے سامنے میرے ساتھ سخت کلامی کر کے ان کی دل آزاری کی تھی۔جب اس نے صحابہ کے سامنے بھی اسی طرح اظہار کیا تو آپ نے فرمایا ”میری مثال اس اونٹ کے مالک کی طرح ہے جو اپنے اڑیل اونٹ کو بھی قابو کر لیتا ہے۔میں بھی سخت مزاج لوگوں کو محبت سے سدھا لیتا ہوں۔‘ بیٹمی ) 34 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح حسنین کے بعد بے شمار غنائم تقسیم فرما کر واپس تشریف لا رہے تھے کہ ایک جگہ بدوؤں نے گھیر لیا اور آپ سے اصرار کر کے مانگنے لگے۔ان کے ہجوم کے باعث پیچھے ہٹتے ہٹتے آپ کی چادر کانٹوں میں الجھ کر رہ گئی۔آپ عمال معصومیت سے ان سے اپنی چادر واپس طلب فرما رہے تھے، پھر فرمایا اگر مویشیوں سے بھری ہوئی یہ وادی بھی میرے پاس ہوتی تو میں تمہارے درمیان تقسیم کر دیتا اور تم مجھے ہرگز بزدل اور بخیل نہ پاتے۔( بخاری ) 35 اپنی ضروریات پر دوسرے کو ترجیح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انفاق فی سبیل اللہ میں ہمیشہ ضرورت مند کی خاطر اپنی ضرورت قربان کر کے بھی خدا کی راہ میں ) دیتے تھے۔ایک دفعہ آپ کے لئے لباس کی ضرورت دیکھ کر ایک صحابیہ نے ایک خوبصورت چادر کڑھائی کر کے آپ کی خدمت میں نذر کی جو آپ کو بہت پسند آئی۔چونکہ ضرورت بھی تھی ، آپ اندر گئے اور وہ چادر زیب تن فرما کر باہر تشریف لائے۔ایک صحابی نے اس چادر کی بہت تعریف کی کہ آپ کو خوب بجتی ہے اور بہت خوبصورت لگ رہی ہے۔آپ نے اسی وقت پھر پرانی چادر پہن لی اور نئی اس صحافی کو عطا فرما دی۔کسی نے اس شخص سے کہا کہ تم نے کیوں مانگ لی۔حضور کو ضرورت تھی اُس نے کہا میں نے بھی اپنے کفن کیلئے مانگی ہے۔( بخاری ) 36 اس ایثار اور انفاق فی سبیل اللہ کے نتیجہ میں آپ کے اموال میں برکت بھی بہت عطا ہوتی تھی جس کے نتیجہ میں مزید مالی قربانی کی توفیق ملتی تھی۔آپ اموال کی تقسیم میں اہل خانہ پر بھی دوسروں کو ترجیح دیتے تھے۔ایک دفعہ کچھ قیدی آئے۔حضرت فاطمہ کو پتہ چلا تو ایک خادم مانگنے حاضر ہوئیں اور رسول اللہ کو موجود نہ پا کر حضرت عائشہ کو اپنی ضرورت بتا کر گھر چلی گئیں۔رسول اللہ تشریف لائے حضرت عائشہ نے آپ کی لخت جگر کا پیغام دیا کہ چکی پیس کر ان کے ہاتھ میں گئے پڑ گئے ہیں انہیں ایک خادم کی ضرورت ہے۔آپ اسی وقت صاحبزادی فاطمہ کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ قیدی تو ضرورت مندوں میں تقسیم ہو چکے۔آپ لوگ اللہ کی نعمتوں پر خدا کی تسبیح اور حمد کرو۔سبحان اللہ الحمد للہ اللہ اکبر پڑھا کرو۔یہ تمہارے لئے خادم سے بہتر ہے۔( بخاری 37 ) اس میں پیغام تھا کہ اللہ تعالیٰ کی حمد و شکر اور دعا کے نتیجہ میں تمہاری یہ ضرورت پوری ہوگی۔ایثار اور انفاق کی برکت عبد اللہ بن عمر یہ ایمان افروز واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم کے پاس دس درہم تھے۔کپڑے کا تاجر