اسوہء انسانِ کامل — Page 319
اسوہ انسان کامل فراخدلی 319 نبی کریم کا انفاق فی سبیل اللہ اور جود و سخا رسول کریم ہمیشہ فراخدلی سے عطا کرتے تھے۔ضرورت مند بعض دفعہ آپ سے اپنا حق سمجھ کر مانگتے تھے مگر آپ کبھی برا نہ مناتے۔ایک دفعہ ایک بدو نے آپ سے دست سوال دراز کرتے ہوئے عجیب گستاخانہ طریق اختیار کیا۔جو چادر آپ نے اوپر لی ہوئی تھی اسے اس نے اتنے زور سے کھینچا کہ آپ کی گردن مبارک پر نشان پڑ گئے اور پھر بڑی ڈھٹائی سے کہنے لگا مجھے اللہ کے اس مال میں سے عطا کریں جو آپ کے پاس امانت) ہے۔آپ نے اس گنوار دیہاتی کے اس رویہ پر نہ صرف صبر وضبط اور حمل کا مظاہرہ کیا بلکہ نہایت فراخدلی سے مسکراتے ہوئے اس کی امداد کرنے کا حکم بھی صادر فرمایا۔( بخاری ) 31 حضرت ابوسعید سے روایت ہے کہ دو آدمی رسول کریم کی خدمت میں آئے اور اونٹ خریدنے کے لئے آپ سے مدد چاہی۔آپ نے انہیں دو دینار عطا فرمائے۔واپسی پر ان کی ملاقات حضرت عمر سے ہوئی اور انہوں نے رسول کریم کے اس احسان کی بہت تعریف کی اور شکریہ ادا کیا۔حضرت عمر نے جا کر رسول کریم کو سارا ماجرا عرض کیا آپ نے فرمایا فلاں کو میں نے سو دینار تک دیے مگر اس نے تو ایسا شکر یہ ادا نہیں کیا۔ایسے لوگوں میں سے ایک شخص جب مجھ سے سوال کرنے آتا ہے تو جو مجھ سے لے جاتا ہے وہ سوائے آگ کے کچھ نہیں ہوتا۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ پھر آپ ان کو وہ آگ کیوں دیتے ہیں؟ رسول کریم نے فرمایا 'وہ لوگ سوال کرنے سے باز نہیں آتے اور اللہ تعالیٰ نے میرے لئے بخل منع فرما دیا ہے۔(ابن عساکر (32) یعنی وہ اپنی خو نہ بدلیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں؟“ بدی کے بدلہ میں نیکی ایک دفعہ ایک دیہاتی نے جب رسول کریم کے گلے کا پڑکا کھینچ کر آپ کو تکلیف پہنچائی اور اس طرح سخت کلامی کرتے ہوئے مانگا اور کہا کہ یہ مال نہ آپ کا ہے نہ آپ کے باپ دادا کا۔اللہ کے اس مال میں جو ہمارا حق ہے وہ ہمیں دیں۔آپ نے فرمایا کہ یہ تو ٹھیک ہے، لیکن اے اعرابی ! تم نے جو چادر کھینچ کر مجھے تکلیف پہنچائی ہے اس کا بدلہ تو تم سے لیا جائے گا۔وہ بے اختیار بول اٹھا، ہر گز نہیں۔آپ نے فرمایا خرکیوں تم سے بدلہ نہ لیا جائے؟ اس نے کیسی صاف گوئی اور سادگی سے کہا۔بدلہ نہیں ہو گا اس لئے کہ آپ ہمیشہ بدی کا بدلہ نیکی سے دیتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور اسے ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر جو اور ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر کھجوریں عطا فرما کر رخصت کیا۔(عیاض) 33 ایک دفعہ ایک بدو نے آکر اپنی ضرورت سے متعلق سوال کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب حال جو میسر تھا عطا فرما دیا۔وہ اس پر سخت چیں بجبیں ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بھی بے ادبی کے کچھ کلمات کہہ گیا۔صحابہ کرام نے سرزنش کرنا چاہی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا۔آپ اس بدو کو اپنے ساتھ گھر لے گئے، اسے کھانا کھلایا اور مزید انعام واکرام سے نوازا۔پھر پوچھا کیا اب راضی ہو؟ وہ خوش ہو کر بولا اب تو میں کیا میرے قبیلے