اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 318 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 318

اسوہ انسان کامل 318 نبی کریم کا انفاق فی سبیل اللہ اور جود وسخا ایک جاں نثار صحابی حضرت جابر بن عبداللہ کے ساتھ بھی ایسا ہی محبت بھرا معاملہ رسول اللہ نے فرمایا۔جابر کے والد عبداللہ اُحد میں شہید ہوئے تو سات بہنوں کی پرورش کا بوجھ ان کے سر پر تھا۔دوسری طرف والد کے ذمہ یہود مدینہ کا خاصا قرضہ بھی واجب الادا تھا۔اسی دوران امور خانہ داری سنبھالنے کے لئے جابر کو اپنی شادی کا فیصلہ بھی جلد کرنا پڑا۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان جملہ حالات پر نظر تھی۔آپ ان کی مدد بھی کرنا چاہتے تھے مگر یہ بھی جانتے تھے کہ جابر غیور اور خود دارنوجوان ہے۔جلد ہی ایک غزوہ سے واپسی پر آپ نے اس کا موقع پیدا کر لیا۔جائز کا اونٹ اچانک اڑ کر رک گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہڑ سے فورا اس اونٹ کا سودا طے کر لیا۔مدینہ آ کر رسول کریم ﷺ نے اپنے خزانچی حضرت بلال کو اونٹ کی قیمت ادا کرنے کا ارشاد فرمایا۔جب جابر وہ قیمت وصول کر کے جانے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلا کر فرمایا کہ قیمت کے ساتھ اپنا اونٹ بھی واپس لیتے جاؤ۔اس طرح اپنے ایک پیارے صحابی کی ضرورت کے وقت امداد بھی فرما دی اور اس کی عزت نفس بھی قائم رکھی۔( بخاری ) 27 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضرورت مند کی حاجت دیکھ کر پریشان ہو جاتے تھے اور جب تک حاجت روائی نہ فرما دیکھ لیتے چین نہ تا۔مصر قبلے کا وفد یا تو انہیں ننگے پاؤں ، جانوروں کی کھالیں اوڑھے دیکھ کر اور ان کے چہروں پر فاقہ کے ٹار محسوس کر کے آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا۔بے چینی میں اندر تشریف لے گئے ، پھر باہر آئے اور بلال کو حکم دیا کہ لوگوں کو جمع کریں۔بلال کی منادی پر لوگ اکٹھے ہو گئے۔آپ نے نہایت مؤثر وعظ فرمایا اور اس وفد کی امداد کی تحریک کی۔صحابہ کرام نے مالی قربانی کی اس تحریک پر والہانہ لبیک کہا اور حسب توفیق ہر قسم کی ضرورت کا سامان حاضر کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دل کی مراد پورے ہوتے دیکھی تو مسرت سے آپ کا چہرہ تمتما نے لگا۔(مسلم ) 28 ابواسید کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ سے جب بھی کوئی چیز مانگی گئی آپ نے کبھی انکار نہیں فرمایا۔حضرت علی “ اس کی مزید وضاحت فرماتے تھے کہ جب آپ کسی سائل کا سوال پورا کرنے کا ارادہ فرماتے تو جواب میں ہاں فرماتے اور اگر آپ کا جواب نفی میں ہوتا تو خاموش رہتے۔چنانچہ کبھی کسی کے لئے ”نہ“ کا کلمہ آپ کی زبان پر جاری نہیں ہوا۔( ہیمی ) 29 کبھی کوئی ضرورت مند تا جس کی آپ مدد کرنا چاہتے اور پاس کچھ موجود نہ ہوتا تو اسے فرماتے کہ میرے وعدے پر اتنا قرض لے لو، جب ہمارے پاس مال آئے گا تو ہم ادا کر دیں گے۔ایک دفعہ کسی ایسے موقع پر حضرت عمرؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بات کا حکم تو نہیں دیا جس کی آپ کو طاقت نہیں ہے۔آپ نے حضرت عمر کی یہ بات پسند نہیں فرمائی۔وہاں موجود ایک انصاری صحابی کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! آپ دل کھول کر خرچ کریں اور افلاس سے نہ ڈریں۔رسول اللہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ ”مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے۔“ ( ترمذی ) 30