اسوہء انسانِ کامل — Page 277
277 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ اسوہ انسان کامل باندھ کر پوچھا تم میں سے محمد کون ہے؟ نبی کریم درمیان میں تشریف فرما تھے۔ہم نے کہا یہ جو گورے رنگ کے ٹیک لگا کر بیٹھے ہیں۔اس شخص نے ندادی۔اے عبدالمطلب کے بیٹے ! نبی کریم نے کمال حمل سے جواب دیا۔میں حاضر ہوں۔اس شخص نے کہا کہ میں آپ سے ذراسختی سے کچھ سوال کروں گا آپ برا نہ ماننا۔نبی کریم نے فرمایا جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھو۔اس نے آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھا کہ کیا اللہ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور پانچ نمازوں کا حکم دیا ہے؟ پھر اس نے قسم دے کر روزوں کی فرضیت، زکوۃ کی ادائیگی وغیرہ کے بارے میں سوال کیا۔نبی کریم نے فرمایا کہ ہاں میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے اور ان باتوں کا حکم دیا ہے۔اس پر وہ شخص کہنے لگا میں اس تعلیم پر ایمان لاتا ہوں جو آپ لے کر آئے ہیں۔میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے اور میں قبیلہ سعد بن بکر کا نمائندہ ہوں۔( بخاری 76) ضمام بن ثعلبہ نے جو اپنی قوم کا سردار بھی تھا واپس جا کر یہ پیغام اپنی قوم کو بھی پہنچایا۔۲۔عدی بن حاتم طائی کی آمد حاتم طائی کا نام اپنی سخاوت کیوجہ سے عربوں میں ضرب المثل ہے۔حاتم رسول اللہ کے زمانے سے پہلے ہی وفات پاچکا تھا۔اس کے بیٹے عدی اپنے قبول اسلام کا دلچسپ واقعہ یوں بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی قوم کا سردار تھا اور عرب رواج کے مطابق مال غنیمت کا چوتھا حصہ وصول کرتا تھا۔جب میں نے رسول اللہ کی بعثت کے بارے میں سنا تو مجھے یہ بات سخت ناگوار گزری اور میں نے اپنے ایک غلام کو جو میری بکریاں چراتا تھا اس کام سے فارغ کر کے یہ ذمہ داری سونپی کہ جب تمہیں اس علاقے میں محمد کے لشکروں کے آنے کا پتہ چلے تو مجھے اس کی اطلاع کرنا۔ایک دن وہ میرے پاس آکر کہنے لگا کہ محمد کے حملے کے وقت جو حفاظتی تدبیر تم نے کرنی ہے کرلو حد کے لشکر سر پر ہیں۔عدی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے اونٹ منگوائے۔اپنے بیوی بچوں کو ان پر سوار کیا اور ملک شام میں اپنے ہم مذہب عیسائیوں کے پاس جا کر پناہ لی۔اپنی ایک بہن اور دیگر رشتہ داروں کو پیچھے چھوڑ آیا۔اس بیچاری پر کیا مصیبت گزری کہ وہ جنگ حنین میں قید ہوگئی۔جب قیدی رسول اللہ کے پاس آئے اور حضور کو پتہ چلا کہ میں ملک شام کو بھاگ گیا ہوں تو آپ نے میری بہن کے ساتھ بہت احسان کا سلوک کیا۔اسے پوشاک ، سواری اور اخراجات کے لئے رقم عنایت فرمائی۔وہ مجھے ڈھونڈتی ہوئی ملک شام آنکلی اور کو سنے لگی کہ تم بہت ظالم اور قطع رحمی کرنے والے ہو۔میں نے نادم ہو کر معذرت کی۔وہ بہت دانا خاتون تھی۔میں نے اس سے پوچھا کہ اس شخص ( محمد ) کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا کہ میری مانو تو جتنا جلدی ممکن ہے ان سے جا کر ملاقات کرو۔اگر تو وہ نبی ہیں تو تمہارا ان کے پاس جلد جانا باعث فضیلت ہے اور اگر وہ بادشاہ ہیں تو بھی تمہیں ان کا قرب ہی نصیب ہوگا۔میں نے سوچا کہ یہ مشورہ تو بہت عمدہ ہے۔اس طرح عدی کی بہن نے اپنے مسلمان ہونے کا ذکر کئے بغیر حکمت عملی سے انہیں حضور کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے آمادہ کر لیا۔عدی کہتے ہیں میں مدینے پہنچا اور اپنا تعارف کروایا تو حضور مجھے اپنے گھر لے کر جانے لگے۔راستے میں ایک بوڑھی عورت آپ سے ملی ، اس نے آپ کو روک لیا۔آپ دیر تک کھڑے اس کی بات سنتے رہے۔میں نے دل میں کہا یہ شخص بادشاہ