اسوہء انسانِ کامل — Page 278
278 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ اسوہ انسان کامل تو نہیں لگتا۔پھر جب حضور کے گھر پہنچا تو وہاں ایک گدیلا پڑا تھا جس کے اندر کھجور کی شاخیں بھری تھیں۔حضور نے اپنے دست مبارک سے اُسے بچھا کر مجھے بیٹھنے کیلئے فرمایا۔میں نے عرض کیا کہ آپ اس پر تشریف رکھیں۔حضور نے فرمایا کہ نہیں اس پر تو آپ ہی بیٹھو گے اور رسول اللہ خود زمین پر بیٹھ رہے۔میں نے دل میں کہا کہ خدا کی قسم یہ تو بادشاہوں والی باتیں نہیں۔پھر حضور مجھے بار بار یہی فرماتے رہے کہ عدی تم اسلام قبول کر لو امن میں آجاؤ گے۔میں نے عرض کیا کہ میں پہلے سے ایک دین پر قائم ہوں۔آپ نے فرمایا مجھے تمہارے دین کا تم سے زیادہ پتہ ہے۔میں نے تعجب سے پوچھا مجھ سے زیادہ؟ آپ نے فرمایا کہ تم فلاں عیسائی فرقہ سے ہونا ! میں نے عرض کیا جی ہاں۔آپ نے فرمایا تم عرب سرداروں کے قدیم دستور کے مطابق مال غنیمت کا چوتھا حصہ بھی وصول کرتے ہو۔میں نے عرض کیا جی ہاں۔آپ نے فرمایا تمہیں پتہ ہے تمہارے دین کے مطابق یہ طریق جائز نہیں ہے۔میں نے عرض کیا جی حضور۔یہ سن کر میں نے دل میں کہا کہ خدا کی قسم یہ تو اللہ کی طرف سے بھیجا گیا نبی معلوم ہوتا ہے جو ایسا علم رکھتا ہے۔پھر رسول اللہ نے فرمایا اے عدی ! تمہیں اس دین میں داخل ہونے میں یہی روک ہے کہ تم سمجھتے ہو کہ اس کی پیروی کمزور اور غریب لوگوں نے کی ہے جنہیں سارے عرب نے دھتکار دیا ہے۔خدا کی قسم ! ان لوگوں میں مال کی بھی بڑی کثرت ہوگی یہاں تک کہ مال لینے والا کوئی نہیں رہے گا۔پھر فرمایا تمہارے اس مذہب کے قبول کرنے میں دوسری روک یہ ہو سکتی ہے کہ ہماری تعداد کم ہے اور دشمن زیادہ تو سنو! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ دین غالب آئے گا اور ایک شتر سوار عورت تنہا عرب کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک بے خوف و خطر سفر کرے گی اور بیت اللہ آکر طواف کرے گی۔پھر فرمایا تمہارے اسلام قبول کرنے میں تیسری روک یہ ہو سکتی ہے کہ ہمارے پاس بادشاہت نہیں۔خدا کی قسم بڑے بڑے محلات مسلمانوں کے لئے فتح کئے جائیں گے۔اسلام کی شوکت اور فتح کا یہ زمانہ بہت قریب ہے۔یہ مؤثر تبلیغ سن کر عدی نے اسلام قبول کر لیا۔(الحلبیہ ( 77 ۳۔وفد فروہ کی آمد فروہ قبیلے کا سردار شاہان کندہ سے بغاوت کرتے ہوئے اپنا وفد لے کر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اسلام کے ظہور سے پہلے ان کی جنگ قبیلہ ہمدان سے ہوئی تھی جس میں انکا بہت جانی نقصان ہوا اور وہ جنگ ”یوم الردم یعنی ہلاکت کے دن کے طور پر مشہور ہوگئی۔رسول کریم نے اس جنگ کے حوالے سے اس سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ جنگ تم لوگوں کے لئے بڑی تکلیف دہ ہوئی ہوگی۔اس نے کہا کہ یا رسول اللہ جس قوم کو ایسی ہلاکت اور مصیبت پہنچے تو تکلیف اور رنج تو ہوتا ہے۔حضور نے کیا عمدہ تبصرہ فرمایا کہ اس جنگ کا ایک فائدہ بھی تو ہوا کہ اس واقعہ کے نتیجے میں تمہاری قوم کو اسلام قبول کرنے کی توفیق مل گئی۔رسول کریم نے اسلام قبول کرنے کے بعد اسے اپنے قبیلہ کا امیر مقرر فرما دیا۔(الحلبیہ ( 78