اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 276 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 276

اسوہ انسان کامل 276 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ سرداران عمان کو خطوط نبی کریم نے عمان کے دوسرداروں جیفر اور عبد کو عمر و بن عاص کے ہاتھ خطوط بھجوائے۔بڑے بھائی جیفر نے کہا میں کل سوچ کر جواب دونگا۔اگلے روز اس نے کچھ تر ڈد کے بعد اسلام قبول کر لیا اور عمر و بن العاص کو اجازت دی کہ وہ اسلام قبول کرنے والوں سے زکوۃ وصول کر سکتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے امراء سے زکوۃ وصول کر کے وہاں کے غرباء میں تقسیم کر دی۔( ابن الجوزی) 73 رئیس بحرین کو خط رسول کریم نے علاء بن حضرمی کے ذریعہ منذر بن ساوی العبدی رئیس بحرین کو خط بھجوایا۔منذر نے جواب میں آپ کی تصدیق کرتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔رسول کریم نے اس کی امارت قائم رکھی اور فرمایا کہ مسلمانوں کو مذہبی آزادی کا حق ملنا چاہئے اور یہود و مجوس سے جزیہ وصول کیا جائے۔(الحلبیہ (74 شاہان حمیر کے حضور کے نام خطوط تبوک پر رومی فوجوں کے اجتماع کی اطلاع پا کر رسول اللہ نے سفر تبوک اختیار کیا تو کئی قبائل پر ہیبت طاری ہوئی۔اس سفر سے واپسی پر شاہان حمیر نے آنحضور کی خدمت میں اپنے قبول اسلام کا خط بھجوایا۔آنحضور نے جوابی مراسلہ میں تحریر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہدایت عطا فرمائی ہے تم اصلاح کرو اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور نماز اور زکوۃ اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرو۔میرے نمائندوں سے حسن سلوک کرو جن کے امیر معاذ بن جبل ہیں اور قوم حمیر سے بھی حسن سلوک کرنا کہ رسول اللہ تمہارے امراء و فقراء سب کے ولی ہیں۔(الحلبیہ (75 عام الوفود غیر جانبدار قبائل عرب مکہ ومدینہ کی جنگ کے دوران طبعا اس انتظار میں تھے کہ غالب آنے والے فریق کا ساتھ دیں گے۔وہ مسلمانوں کے غلبہ کی امید پر اپنے قبول اسلام کے لئے فتح مکہ کا انتظار کر رہے تھے۔چنانچہ فتح مکہ کے بعد 9ھ میں اس کثرت سے قبائل عرب مدینہ آئے اور اسلام قبول کیا کہ یہ سال عام الوفود کے نام سے مشہور ہو گیا جس میں ستر کے قریب وفود آئے۔رسول کریم کی ہدایت پر صحابہ کرام نے ان وفود کی خوب مہمان نوازی اور خاطر تواضع کی۔رسول اللہ ان وفود کو تالیف قلبی کی خاطر انعام و اکرام سے بھی نوازتے اور وہ اسلام کے قریب ہو جاتے۔ان وفود میں سے چند ایک کا ذکر حضور کی پر حکمت تبلیغی گفتگو کے حوالے سے کیا جارہا ہے۔ا۔وفد سعد بن بکر حضرت انس اس وفد کی آمد کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک شتر سوار آیا۔اس نے اپنا اونٹ