اسوہء انسانِ کامل — Page 267
اسوہ انسان کامل 267 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ خبیب کو شہید کیا۔(الحلبیہ (49 مبلغین کی شہادت کا دوسرا واقعہ بئر معونہ کا ہے۔جس میں ستر صحابہؓ شہید ہوئے۔واقعہ یوں ہوا کہ قبیلہ بنی عامر کا سردار عامر بن طفیل حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔خود تو اسلام قبول نہیں کیا مگر کہا کہ مجھے یہ پیغام اچھا لگا ہے اگر آپ اپنے کچھ لوگ ہمارے علاقہ میں بھجوا دیں تو شاید وہ لوگ اسلام قبول کر لیں۔حضور نے فرمایا مجھے اہل نجد سے خطرہ ہے۔ابو عامر نے کہا کہ یہ میرا ذمہ۔چنانچہ اس نے جا کر اہل نجد کو بتا دیا کہ محمد کے ساتھیوں کو میں نے پناہ دی ہے۔یہ ستر حفاظ قرآن تھے جو دن کو قرآن اور نمازیں پڑھتے اور رات کو عبادت کرتے تھے۔ان کے امیر حرام بن ملحان نے جب بنی سلیم کو پیغام حق پہنچایا اور رسول اللہ کا خط دیتے ہوئے کہا کہ اے اہل بئر معونہ! میں تمہاری طرف رسول اللہ کا نمائندہ ہو کر آیا ہوں۔اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔اس دوران ایک شخص نے پیچھے سے آکر ان کو نیزہ مارا۔اُن کی گردن سے خون کا فوارہ نکلا۔اس بہادر داعی الی اللہ نے اللهُ اَكْبَرُ فُرُتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ کا نعرہ لگایا کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔پھر اپنے خون کو ہاتھوں میں لیا اور چہرے اور سر پر چھینٹا مارا۔بعد ازاں اُن کے ساتھیوں پر بھی حملہ کر دیا گیا اور اس میدان میں ستر داعیان الی اللہ نے جام شہادت نوش کیا۔( بخاری ) 0 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ساتھیوں کی وفا اور راضی برضا ر ہنے کا یہ عالم تھا کہ بوقت شہادت انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ ! ہمارے حال کی خبر اپنے رسول کو کر دے اور ان کو ہمارا سلام اور یہ پیغام پہنچا کہ ہم اپنے رب کی رضا پر راضی ہیں۔رسول اللہ کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع ہو گئی اور آپ نے صحابہ کو اس سے مطلع فرمایا۔ان شہادتوں کا حضور کو اتنا صدمہ اور غم تھا کہ کبھی کسی اور کی وفات پر اتنا غم نہیں ہوا۔ایک ماہ تک حضور رورو کر نمازوں میں خدا تعالیٰ سے مد دو نصرت کی دعائیں کرتے رہے۔( بخاری ) 51 سردار طائف عروہ کی شہادت 50 فتح مکہ کے بعد آنحضرت نے چند روز تک طائف کا محاصرہ کیا تھا مگر جلد ہی محاصرہ اُٹھا کر مدینہ واپس لوٹے تھے۔مدینہ واپسی پر راستہ میں ہی ثقیف قبیلہ کے ایک سردار عروہ بن مسعود نے آکر اسلام قبول کر لیا اور پوچھا کہ واپس اپنی قوم میں جا کر اسلام کا اعلان کرنا چاہتا ہوں۔رسول اللہ نے فرمایا کہ ثقیف تمہیں قتل کر دیں گے۔عروہ نے کہا کہ وہ مجھ سے اپنی اولاد سے بھی زیادہ محبت کرتے ہیں۔عروہ واپس طائف پہنچے۔قوم کے لوگ ملنے آئے تو عروہ نے اسلام کی طرف دعوت دی، انہوں نے انکار کر دیا اور بُرا بھلا کہنے لگے۔اگلی صبح عروہ اپنے گھر میں کمرہ سے باہر نکلے اور کلمہ شہادت پڑھا تو ثقیف قبیلہ کے ایک تیر انداز نے تیر مار کر شہید کر دیا۔آخری لمحات میں ان سے پوچھا گیا اپنے خون کے بدلہ کے بارہ میں کیا کہتے ہو، کہنے لگئے یہ تو ایک عزت ہے جو خدا نے مجھے بخشی اور شہادت کا رتبہ عطا فر مایا۔“ رسول کریم نے ان کی شہادت پر فرمایا کہ عروہ کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس کا ذکر سورہ پینس میں ہے کہ اُس