اسوہء انسانِ کامل — Page 268
اسوہ انسان کامل 268 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ نے اپنی قوم کو رسول کی پیروی کی طرف بلایا تھا۔(الحلبیہ (52 میدان جہاد میں دعوت الی اللہ ہجرت مدینہ کے بعد امن میسر آتے ہی دعوت اسلام کا کام تیز تر ہو گیا لیکن کفار مکہ نے وہاں بھی امن کا سانس نہ لینے دیا اور مدینہ پرحملہ آور ہوئے۔تب امن کے بادشاہ حضرت محمد مصطفیٰ کو اپنے دفاع کے لئے مجبوراً تلوار اٹھانی پڑی۔اس زمانہ میں بھی آپ نے دعوت الی اللہ کا فریضہ ہمیشہ مقدم رکھا۔یہود خیبر کی مدینہ پر حملہ کی دھمکیوں اور خطرہ کے پیش نظر اسلامی لشکر محاصرہ خیبر پر مجبور ہوا تو اس دوران ایک حبشی غلام یہود خیبر کی بکریاں چراتا ہوا ادھر آنکلا۔جنگ کی حالت تھی ہحاصرہ جاری تھا۔وہ غلام جنگل سے بکریاں لے کر شہر کی طرف آیا تو کیا دیکھتا ہے کہ باہر مسلمانوں کی فوج نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔اس موقع پر ہمارے سید و مولی کا شوق تبلیغ دیکھنے کے لائق تھا۔آپ تبلیغ کے لئے کسی کو حقیر نہ جانتے تھے۔چنانچہ اس حبشی چرواہے کو اسلام کی دعوت دینے لگے۔اس نے کہا کہ اگر میں مسلمان ہو جاؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ حضور نے فرمایا جنت۔بشرطیکہ اسلام پر ثابت قدم رہو۔اس پر وہ مسلمان ہو گیا۔(الحلبیہ ( 53 حضرت علی کو نصیحت آنحضرت جنگ میں دعوت الی اللہ کا یہ پاکیزہ نمونہ دکھانے کے بعد حضرت علی کوسالارلشکر بنا کر اس نوید کے ساتھ قلعہ خیبر فتح کرنے بھیجا کہ تمہارے ہاتھ پر فتح ہوگی۔انہیں یہ تلقین فرمائی کہ یہود ( جن کی طرف سے اعلان جنگ ہوا تھا) پر حملہ سے قبل ایک دفعہ پھر انہیں دعوت اسلام دینا۔چنانچہ فرمایا اے علی ! جب تم ان کے میدان میں اتر و تو پہلے ان کو اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ قبول اسلام کی صورت میں ان کی کیا ذمہ داریاں ہوگی اور یاد رکھو کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت دیدے تو تیرے لئے کئی سرخ اونٹوں کی دولت سے زیادہ بہتر ہے۔(بخاری) 54 غزوات میں دشمن پر احسان اور تبلیغ رسول اللہ نجد کی طرف ایک مہم پر تشریف لے گئے جسے غزوہ ذات الرقاع بھی کہتے ہیں۔واپسی پر دو پہر کے وقت آرام کے لئے ایک سایہ دار درختوں کی وادی میں حضور نے قیام فرمایا۔لوگ درختوں کے نیچے آرام کرنے لگے۔رسول کریم بھی ایک کیکر کے درخت کے نیچے لیٹ گئے اور تلوار اس کے اوپر لٹکا دی۔حضرت جابر کہتے ہیں ابھی ہم کچھ دیر ہی سوئے تھے کہ اچانک رسول اللہ کو ہم نے بلاتے سنا۔حاضر خدمت ہوئے تو ایک بدو وہاں بیٹھا تھا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص نے میرے سوتے ہوئے میری تلوار سونت لی اور مجھے جگا کر پوچھا کہ اب آپ کو مجھ سے کون بچاسکتا ہے؟ میں نے کہا اللہ۔جس پر تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی تب میں نے تلوار ہاتھ میں لے کر اس سے پوچھا اب تم بتاؤ