اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 266 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 266

اسوہ انسان کامل 266 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ گے۔اسلامی دستے کے امیر عاصم نے کہا کہ مجھے تو کافروں کے عہد پر اعتبار نہیں۔چنانچہ وہ دشمن کے مقابلے میں تیر برساتے رہے اور ساتھ یہ شعر پڑھتے جاتے تھے۔الْمَوْتُ حَقِّ وَالْحَيَاةُ بَاطِل وَكُلُّ مَا قَضَى الْالَهُ نَازِل یعنی موت برحق ہے اور زندگی بے کار ہے جو خدا کا فیصلہ ہو وہی برحق ہے۔جب عاصم کے تیر ختم ہو گئے تو وہ نیزے سے لڑنے لگے۔نیزہ بھی ٹوٹ گیا تو تلوار نکال لی اور لڑتے لڑتے جان دے دی۔آخری لمحات میں اُن کی زبان پر یہ دعا جاری تھی۔”اے اللہ میں نے آخر دم تک تیرے دین کی حفاظت کی ہے۔اب میری نعش کی حفاظت تو خود کرنا۔ان کی دعا اللہ تعالیٰ نے اس معجزانہ رنگ میں قبول فرمائی کہ جب دشمن بے حرمتی کرنے کیلئے ان کی نعش اٹھانے لگتے تا اس کا مثلہ کریں تو بھڑوں کا ایک غول ان پر حملہ آور ہو جاتا اور اُن کی نعش کی حفاظت کرتا۔یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ بارشوں سے سیلاب آیا اور عاصم کی نعش کو بہا کر لے گیا۔( الحلبیہ (48 میہ واقعہ رجیع کے نام سے معروف ہے جس میں امیر دستہ عاصم بن ثابت اور ان کے چھ اور ساتھی شہید ہو چکے تو ان کے باقی تین ساتھیوں خبیب ، زیڈ اور عبداللہ بن طارق نے دشمن کا عہد قبول کرتے ہوئے گرفتاری دے دی۔جب دشمن ان کو رسیوں سے باندھ رہے تھے تو عبداللہ کہنے لگے یہ پہلی بد عہدی ہے۔مجھے یہ قید قبول نہیں اور انہوں نے وہیں لڑتے ہوئے جان دے دی۔خبیب اور زیڈ کو اہل مکہ نے خرید لیا کہ وہ اپنے مقتولین بدر کے عوض انہیں قتل کر کے اپنے انتقام کی آگ ٹھنڈی کریں گے۔جس روز انہیں قتل گاہ لے گئے تو خبیب نے کہا کہ مجھے دورکعت نماز پڑھ لینے دو۔وہ جلد نماز سے فارغ ہوئے اور کہنے لگے خدا کی قسم اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تم سمجھو گے کہ میں موت سے ڈرتا ہوں تو آج میں لمبی نماز پڑھتا۔اس قتل ناحق کا تماشہ دیکھنے کے لئے شہر کی عورتیں، بچے اور غلام باہر نکل کر جمع ہو گئے تھے۔ان سب کو قتل کا عبرتناک منظر دکھانے کے لئے ایک لمبی لکڑی پر خبیب کو لٹکایا گیا۔پھر کہا کہ ابھی بھی اسلام سے توبہ کر لو تو تجھے آزاد کر دیتے ہیں ورنہ قتل کر دیں گے۔خبیب نے کہا خدا کی راہ میں میری جان کی یہ قربانی ایک حقیر نذرانہ ہی تو ہے۔پھر خبیب نے دعا کی کہ اے اللہ یہاں کوئی ایسا شخص نہیں جو تیرے رسول کو میرا سلام پہنچائے۔پس تو ہی میری طرف سے اپنے رسول کو میر اسلام پہنچا دے اور جو سلوک یہ میرے ساتھ کر رہے ہیں اس کی اطلاع بھی فرما دے۔دوسری طرف تین سو میل کے فاصلے پر مدینہ میں خدا کے رسول اپنے صحابہ کے ساتھ مجلس میں تشریف فرما تھے، عین اس وقت اچانک آپ پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی۔اسامہ بن زیڈ کا بیان ہے ہم نے آپ کو دو علیہ السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ “ کہتے سنا۔جب وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ ابھی جبریل آئے تھے وہ مجھے خبیب کی طرف سے سلام پہنچا رہے تھے جنہیں قریش نے شہید کر دیا ہے۔قریش نے اپنے چو ہیں سرداروں کی اولاد کو جو بدر میں ہلاک ہوئے تھے ) ضریب سے قتل پر اکٹھا کیا تھا اور نیزے ان کے ہاتھ میں تھما کر کہا تھا کہ وہ سب اس شخص کو نیزے مار کر قتل کریں اور آتش انتقام سرد کریں۔چنانچہ ان سب نے