اسوہء انسانِ کامل — Page 265
265 اسوہ انسان کامل رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ جس میں عبداللہ بن ابی بھی تھا جو ا بھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔مجلس میں مسلمانوں کے علاوہ مشرکین ، بتوں کے پجاری اور یہود بھی موجود تھے۔جب رسول کریم کی سواری کے آنے پر کچھ غبار اڑی تو عبداللہ بن ابی نے ( جو خزرج کے سرداروں میں سے تھا ) ناک بھوں چڑھائی اور اپنا منہ چادر سے ڈھانپ کر کہنے لگا۔ہمارے اوپر مٹی مت اُڑاؤ۔نبی کریم نے آکر سلام کیا اور وہاں رک کر ان لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دی اور قرآن شریف بھی سنایا۔عبداللہ بن ابی چیں بجبیں ہو کر کہنے لگا "اے شخص! اگر یہ درست بھی ہو کہ تیری تعلیم سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں پھر بھی تم ہماری مجالس میں آکر ہمیں ایذاء نہ دیا کرو اور اپنے ڈیرے پر رہو جو تمہارے پاس آئے اسے یہ باتیں بتاؤ “ اس پر مجلس میں موجود ایک مخلص صحابی عبداللہ بن رواحہ انصاری کو غیرت آئی۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ؟ آپ بے شک ہماری مجالس میں تشریف لایا کریں ہمیں یہ بات بہت پسند ہے۔اس پر مسلمانوں ،مشرکوں اور یہود کے ما بین کچھ تکرار ہوگئی۔نبی کریم " وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ لوگ خاموش ہو گئے تو آپ آگے تشریف لے گئے۔( بخاری )45 رسول اللہ نے کبھی تبلیغ کیلئے کسی کوحقیر نہیں جانا خواہ وہ کوئی بد حال غریب ہو یا مفلوک الحال یہودی غلام۔خواہ وہ بچہ ہو یا بڑا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی لڑکا تھا جو آپ کی خدمت کرتا تھا۔وہ بیمار ہوگیا تو نبی کریم اس کا حال پوچھنے تشریف لے گئے۔آپ اس کے سرہانے تشریف فرما ہوئے اور فرمایا کہ اسلام قبول کرلو۔اس نے اپنے میٹھے باپ کی طرف دیکھا۔باپ حضور کی شفقت اور احسان دیکھ کر کہنے لگا ” بچے ابوالقاسم جو کہتے ہیں ان کی بات مان لو۔“ چنانچہ وہ بچہ (کلمہ پڑھ کر ) مسلمان ہو گیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نکلے تو یہ فرمارہے تھے تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے اسے آگ سے بچالیا ہے۔( بخاری 46 ) دوسری روایت میں ذکر ہے کہ رسول کریم جب باہر تشریف لائے تو اس بچے نے جان دیدی آپ نے صحابہ سے فرمایا ” اٹھو اور اپنے بھائی کی نماز جنازہ ادا کرو۔‘ ( احمد ) 47 مدنی دور میں تبلیغ کی راہ میں قربانیاں نبی کریم کے لئے تنہا سارے عرب میں پیغام پہنچا ناممکن نہیں تھا۔لازماً اس کے لئے انصار و اعوان اور داعیان کی ضرورت تھی۔مختلف قبائل سے تبلیغ اسلام کے لئے معلمین و مبلغین کے مطالبے بھی ہونے لگے تھے۔چنانچہ عضل وقارہ قبائل کے مطالبہ پر رسول کریم نے دس صحابہ کو عاصم بن ثابت انصاری کی سرکردگی میں بھجوایا۔یہ لوگ رات کو سفر کرتے اور دن کو چھپ کر رہتے تھے۔قریش مکہ سے باخبر رہنے کی کوشش کرتے تھے۔جب یہ رجمیع مقام پر پہنچے تو ان کے دشمن قبیلہ ہذیل کو ان کی خبر ہوگئی۔انہوں نے سو تیر اندازوں کا ایک دستہ ان کے تعاقب میں بھیجا۔جب مسلمانوں کو پتہ لگا تو وہ قریب ہی ایک پہاڑی پر چڑھ گئے۔دشمنوں نے انہیں گھیر لیا اور کہا اگر تم لوگ گرفتاری دے دو ہم تمہیں قتل نہیں کریں