اسوہء انسانِ کامل — Page 264
اسوہ انسان کامل 264 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ اس طرح میثرب میں مسلمانوں کے لئے پناہ گاہ کا اللہ تعالیٰ نے انتظام فرما دیا۔رسول اللہ نے ان میں وحدت اور مرکزیت پیدا کرنے کے لئے مصعب بن عمیر کو اسلام کا پہلا مبلغ بنا کر وہاں بھجوایا۔کچھ عرصہ میں مدینہ میں بھی جمعہ کی ادائیگی شروع ہوگئی۔سفر ہجرت میں تبلیغ مدینہ کے بریدہ انصاری اپنے خاندان بنی سہم کے ستر سوار لے کر سفر میں تھے کہ نبی کریم سے سفر ہجرت میں ملاقات ہوگئی۔ہر چند کہ ہجرت کا سفر خطرات سے خالی نہ تھا پھر بھی رسول کریم نے اسی گروہ سے تعارف حاصل کیا اور انہیں پیغام حق پہنچایا۔بُریدہ کے ساتھ حضور نے ایسی پر حکمت اور شیریں گفتگو فرمائی کہ انہوں نے خاندان سمیت اسلام قبول کر لیا۔رسول اللہ نے پوچھا۔آپ کون ہو ؟ بریدہ نے اپنا نام بتایا۔(جس کے معنے ٹھنڈک کے ہیں )۔رسول اللہ نے اس نام کے معنے ٹھنڈک سے نیک تفاؤل لیا اور ابو بکر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ابوبکر سمجھو کہ ہمارے تعاقب کا معاملہ اب ٹھنڈا پڑ گیا۔پھر رسول اللہ نے پوچھا۔”آپ کس قبیلہ سے ہو؟ بُریدہ نے کہا ”اسلم قبیلہ سے“۔(اسلم کے معنی سلامتی کے ہیں)۔رسول اللہ نے ابوبکر سے نیک تفاؤل کے طور پر فرمایا ” ہمیں سلامتی عطا ہوئی۔“ پھر رسول اللہ نے پوچھا کس قبیلہ سے ہو؟ بُریدہ نے کہا۔”بنی سہم سے (سہم کے معنے ہیں غنیمت کا حصہ)۔رسول اللہ تیسری مرتبہ نیک تفاؤل کے طور پر ابو بکر سے فرمانے لگے کہ تمہارے مال غنیمت کا حصہ تمہیں مل گیا۔بریدہ نے پوچھا ”آپ کون ہیں؟ فرمایا میں محمد بن عبداللہ ہوں اور اللہ کا رسول بریدہ نے کہا ” میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔بریدہ اور ان کے تمام ساتھیوں نے وہیں اسلام قبول کر لیا۔اگلی صبح بریدہ نے رسول اللہ کی خدمت میں مشورہ عرض کیا کہ آپ مدینہ میں اپنے لواء (جھنڈا) کے ساتھ داخل ہوں۔چنانچہ انہوں نے اپنا عمامہ کھول کر نیزے پر باندھا اور آگے آگے چلنے لگے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میرے گھر قیام فرمائیں۔آپ نے فرمایا میری اونٹنی اللہ کی طرف سے حکم کے مطابق بیٹھے گی۔( ابن الجوزی) 44 دعوت الی اللہ کا مدنی دور اور تبلیغ عام کفار مکہ کے ظلم سے تنگ آکر مدینہ ہجرت ہوئی۔وہاں امن کے ماحول میں دعوت اسلام کا سلسلہ تیز تر ہو گیا۔مدینہ آنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے پہلے مبلغ اسلام مصعب بن عمیر کے علاوہ داعیان الی اللہ کی ایک کثیر تعداد دعوت الی اللہ کے میدان میں اتر چکی تھی۔پھر بھی آپ نے اپنی ذمہ داری کا حق ہمیشہ ادا کیا اور مدینہ کی کھلی مجالس میں جا کر بھی تبلیغ کی۔اسامہ بن زید غزوہ بدر سے پہلے کا یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انصاری سردار سعد بن عبادہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔آپ ایک گدھے پر سوار تھے۔انصار کی ایک مجلس کے پاس سے آپ کا گزر ہوا کا