اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 11 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 11

اسوہ انسان کامل 11 سوانح حضرت محمد علی ہے کہ اللہ میرا رب ہے۔( بخاری ) 22 یہ مصائب و آلام انتہا کو پہنچے تو صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (ﷺ)! آپ ان ظالموں کے لئے بددعا کیوں نہیں کرتے ؟ رسول اللہ علی نے بڑے جلال سے فرمایا: ”تم سے پہلے وہ لوگ گزرچکے ہیں جن کا گوشت لوہے کے کانٹوں سے نوچ کر ہڈیوں تک صاف کر دیا گیا مگر وہ اپنے دین سے نہیں پھرے، ان کے سر آروں سے چیر دیئے گئے مگر ان کے قدموں میں لغزش نہیں آئی ، خدا اس دین کو پورا کر کے چھوڑے گا مگر تم جلدی کرتے ہو۔( بخاری ) 23 ایک اور موقع پر حضرت عبدالرحمان بن عوف نے چند صحابہ کے ساتھ حاضر خدمت ہو کر عرض کیا کہ قریش کے مظالم کی حد ہو گئی ہے۔اب ہمیں کفار سے مقابلہ کی اجازت دیں تو آپ نے فرمایا: إِنَّى أُمِرَتْ بِالْعَفْوِ فَلَا تُقَاتِلُوا۔یعنی مجھے عضو کا حکم دیا گیا ہے۔اس لئے تم لڑائی نہ کرو۔(نسائی) ہجرت حبشہ 24 براعظم افریقہ کے شمال مشرق اور عرب کے جنوب میں حبشہ کا ملک واقع تھا۔وہاں اصحمہ نجاشی کی حکومت تھی۔جب مکہ میں مسلمانوں کی تکالیف انتہاء کو پہنچ گئیں تو رسول کریم ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ حبشہ کا بادشاہ انصاف پسند ہے۔تم لوگ اس کے ملک ہجرت کر جاؤ۔چنانچہ شہ نبوی میں گیارہ مردوں اور چار عورتوں کے پہلے قافلہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ان میں قریش کے مختلف قبائل کے افراد، حضرت عثمان ، ان کی اہلیہ حضرت رقیہ بنت رسول علیہ، حضرت عبد الرحمان بن عوف ، حضرت زبیر، حضرت عثمان بن مظعون ، حضرت مصعب بن عمیر ، حضرت ابو سلمہ اور حضرت ام سلمہ شامل تھے۔(ابن ہشام) 25 قریش نے تعاقب کر کے ان کو واپس لانے کی کوشش کی مگر مسلمان ایک تجارتی جہاز کے ذریعے حبشہ روانہ ہو چکے تھے۔اس پر قریش نے نجاشی شاہ حبشہ اور اس کے درباریوں کے پاس قیمتی تحائف کیساتھ اپنے سفیر بھجوانے کا فیصلہ کیا تا کہ وہ انہیں واپس لانے کی کوشش کریں۔اس غرض کے لئے ایک سردار عمرو بن عاص کی سرکردگی میں ایک وفد حبشہ بھجوایا گیا۔جنہوں نے تحائف کے ذریعے درباریوں کو ساتھ ملا کر نجاشی کے دربار میں رسائی حاصل کی اور مسلمانوں کو جو اپنا آبائی دین ترک کر کے وہاں آئے تھے واپس بھجوانے کی درخواست کی۔منصف مزاج نجاشی نے مسلمانوں کے وفد سے اس بارہ میں وضاحت چاہی۔حضرت جعفر بن ابی طالب نے اس موقع پر مسلمانوں کی نمائندگی کا حق خوب ادا کیا۔انہوں نے اپنی تقریر میں کہا ”اے بادشاہ! ہم جاہل اور بت پرست لوگ ، بدکاریوں میں مبتلا تھے قطع رحمی اور ہمسایوں سے بد معاملگی ہمارا شیوہ تھا۔جابر شخص کمزور کا حق دبا لیتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ہم میں اپنا رسول بھیجا جس کی امانت و دیانت اور سچائی کو ہم سب پہلے سے جانتے تھے۔اس نے تو حید ، عبادت اور امانت و دیانت اور صلہ رحمی کی تعلیم دی۔خونریزی، بدکاری ، جھوٹ اور قیموں کا مال کھانے سے منع کیا۔ہم اس پر ایمان لائے اور اسکی پیروی کی۔اس پر