اسوہء انسانِ کامل — Page 10
اسوۃ انسان کامل 10 سوانح حضرت محمد علی تیسری مرتبہ قریش نے آپ کے خلاف ایک اور منصوبہ بنایا کہ ایک ہونہار نو جوان عمارہ بن ولید کو ابوطالب کے پاس لے گئے اور کہا کہ یہ قریش کے بہترین نو جوانوں میں سے ہے۔آپ بیٹا بنا کر اس سے فائدہ اٹھائیں اور محمد کو ہمارے سپرد کر دیں۔ہم اس سے نمٹ لیں گے۔اس طرح فتنہ بھی ختم ہو جائے گا اور جان کے بدلے جان کا قانون بھی پورا ہوگا۔ابوطالب نے بھی انہیں خوب لا جواب کیا کہ یہ عجیب انصاف ہے کہ میں تمہارے لڑکے کو اپنا بیٹا بنا کر کھلاؤں پلاؤں اور اپنا بیٹا تمہیں دے دوں تا کہ تم اسے قتل کر دو۔اس پر قریشی سردار مطعم نے کہا کہ ” آپ قوم کی کوئی بات مانتے نظر نہیں آتے“۔ابوطالب نے کہا 'واللہ میرے ساتھ انصاف نہیں کیا جارہا۔اس لئے تم نے جو کرنا ہے کر لو۔( ابن ہشام ) 18 17 قریش نے جب اپنی تدابیر نا کام ہوتے دیکھیں تو یہ فیصلہ کیا کہ جس قبیلے سے کوئی شخص مسلمان ہو وہ ہر ممکن طریق سے اسے اسلام سے پھیرنے کی کوشش کرے اسطرح بال آخر محمد اکیلا رہ جائیگا۔اس فیصلے پر عمل شروع ہوتے ہی مسلمانوں کے لئے ظلم وستم کا ایک نیا باب کھل گیا۔قریش میں سے حضرت عثمان کو رسیوں میں جکڑ کر پیٹا گیا۔حضرت زبیر کو چٹائی میں لپیٹ کر ناک میں دھواں دیا گیا۔(ابن سعد ) حضرت عبداللہ بن مسعود کو صحن کعبہ میں مار مار کر ہلکان کیا گیا۔حضرت ابوذرغفاری" کو بوقت طواف اتنا مارا کہ لہولہان ہو گئے۔غلاموں میں سے حضرت بلال کو انتہائی اذیتیں دی گئیں۔لبینہ اور زنیرہ نے بھی لونڈی ہونے کے جرم میں سخت تکلیفیں اٹھا ئیں۔کمزور مسلمانوں حضرت صہیب اور حضرت خباب کو اس قد ر ایذاء دی گئی کہ الامان۔حضرت عمار کے والدین یا سر اور سمیہ کے ساتھ جو سلوک روا رکھا تھا اس کا حال پڑھ کر روح و بدن کانپ جاتے ہیں۔والحفیظ خود آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس بھی بنو ہاشم کی حمایت کے باوجودقریش کے حملوں سے محفوظ نہ رہی۔آپ کی بیٹیوں حضرت رقیہؓ اور حضرت ام کلثوم کو طلاق دلوائی گئی۔آپ کو جھوٹے پراپیگنڈا، استہزاء، گالی گلوچ اور جسمانی اذیتوں کا نشانہ بنایا جاتا۔(ابن سعد )19 مخالفت کی مہم تیز تر کرنے کے لئے آپ کو کاھن، مجنون اور شاعر مشہور کر دینے کی سازشیں کی گئیں اور طے پایا کہ آپ کو جادوگر مشہور کیا جائے اور بڑے شد و مد سے آپ کے خلاف یہ طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا۔رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اہل خانہ کو دکھ دینے کی خاطر گندی اور بد بودار چیزیں آپ کے گھر پھینک دی جاتیں۔آپ صرف اتنا فرما کر خاموش ہو جاتے : ”تم لوگ اچھا حق ہمسائیگی ادا کرتے ہو ! (بیشمی ) 20 قریش کو آپ کا نام محمد تک گوارا نہ تھا کیونکہ اس کے معنے ہیں جس کی تعریف کی جائے۔“ وہ آپ کو مدتم (نعوذ باللہ قابل مذمت ) کے نام سے پکارتے۔نبی کریمہ مسکرا کر فرماتے جس کا نام اللہ نے محمد رکھا ہے، وہ مذقم کیسے ہوسکتا ہے۔( بخاری )21 صحن کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے گلے میں کپڑے کا پھندا ڈال کر آپ کے قتل کی کوشش کی گئی۔حضرت ابو بکڑ نے بر وقت پہنچ کر چھڑایا اور فرمایا کہ تم ایک شخص کو اس لئے قتل کرنے کے درپے ہو کہ وہ کہتا