اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 12 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 12

اسوہ انسان کامل 12 سوانح حضرت محمد علی ہماری قوم نے ہمیں طرح طرح کے عذاب دے کر اس دین سے جبر ارو کنا چاہا حتی کہ ہم نے آپ کے ملک میں آکر پناہ لی۔اے بادشاہ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کے ماتحت ہم پر ظلم نہ ہوگا“۔شاہ حبشہ نجاشی نے اس عمدہ تقریر سے متاثر ہو کر کہا کہ جو کلام تمہارے رسول پر اترا ہے مجھے سناؤ۔حضرت جعفر نے سورۃ مریم کی کچھ آیات سنائیں تو بادشاہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور اس نے کہا کہ خدا کی قسم یہ کلام اور ہمارے مسیح کا کلام ایک ہی منبع نور کی کرنیں معلوم ہوتی ہیں۔پھر انہوں نے قریش کے وفد سے کہا کہ تم واپس چلے جاؤ ، میں ان مظلوموں کو تمہارے حوالے نہیں کر سکتا۔قریش نے نجاشی کو مسلمانوں کے خلاف بدظن کرنے کا ایک اور حربہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ان مسلمانوں کے عقائد حضرت مسیح کے بارے میں بھی سخت قابل اعتراض ہیں۔حضرت جعفر نے اس کے جواب میں بیان کیا کہ اے بادشاہ! ہمارے اعتقاد کی رو سے حضرت مسیح اللہ کا ایک بندہ اور اس کے مقرب رسول، روح اللہ اور اس کا کلمہ ہیں جو اس نے کنواری مریم کو عطا فر مایا۔نجاشی نے فرش سے ایک تنکا اٹھا کر کہا کہ خدا کی قسم جو مرتبہ مسیح کا تم نے بیان کیا میں تنکا برابر بھی اسے اس سے بڑھ کر نہیں سمجھتا۔دربار کے پادری بھی نجاشی کی اس بات پر برہم ہوئے لیکن اس نے انکی بھی کچھ پرواہ نہ کی اور قریش کے سفیر نا کام واپس لوٹے مگر واپس آکر انہوں نے مسلمانوں کو اور زیادہ دکھ دینا شروع کر دیا۔(احمد) 26 دوسری طرف حبشہ کے مسلمانوں نے نجاشی کے انصاف اور نیک سلوک کو دیکھ کر مکہ میں خبر بھیجی اور اپنے دوسرے بھائیوں کو بھی اپنے پاس آنے کی دعوت دی۔جس پر تر اسی (83) مسلمان مردوں اور عورتوں کا دوسرا قافلہ بھی جلد عبثہ پہنچ گیا۔یہ لوگ کئی سال تک بڑے امن سے حبشہ میں رہے اور نبی کریم ﷺ کی ہجرت مدینہ کے سات سال بعد غزوہ خیبر کی فتح کے موقع پر واپس لوٹے۔مسلمان شاہ حبشہ کی اس نیکی پر ہمیشہ منون احسان رہے۔(ابن سعد) 27 چنانچہ کچھ عرصہ بعد جب نجاشی کو اپنے ایک حریف سے جنگ پیش آئی تو مسلمانوں نے باہم ملکر اس انصاف پسند بادشاہ اور اسکی سلطنت کی خاطر نہ صرف ہر قسم کی امداد پیش کی بلکہ نجاشی کی فتح کے لئے اس وقت تک دعائیں کرتے رہے۔جب تک اسے فتح حاصل نہ ہوگئی۔(ابن ہشام ) 28 ہجری میں حضرت حمزہ اور حضرت عمرؓ کے قبول اسلام کے بعد مسلمانوں نے کھلم کھلا خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنی شروع کر دی۔اس زمانہ میں آنحضرت ﷺ کے استقلال اور مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر قریش نے ایک اور حربہ یہ اختیار کیا کہ سرداران قریش کے ایک وفد نے آپ کو مال و دولت، حکومت، علاج معالجہ کروانے یا مکہ کی حسین ترین لڑکی کے ساتھ آپ کو شادی کی پیشکش کی۔آپ کی ساری خواہشات پوری کرنے کی حامی بھری بشرطیکہ آپ ان کے معبودوں کی مخالفت سے رک جائیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ”اگر تم میرے ایک ہاتھ پر چاند اور دوسرے پر سورج لا کر رکھ دو پھر بھی میں اس پیغام سے رک نہیں سکتا جو خدا کی طرف سے لے کر آیا ہوں۔اگر تم اسے