اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 243 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 243

243 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ اسوہ انسان کامل ابھی رسالت کا اعلان عام نہیں فرمایا تھا۔میں نے آپ سے پوچھا کہ آپ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا میں نبی ہوں۔میں نے پوچھا کہ نبی کیا ہوتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا بھیجا ہوا ) رسول ہوتا ہے۔میں نے پوچھا کیا اللہ نے آپ کو بھیجا ہے۔آپ نے فرمایا ہاں۔میں نے کہا کیا تعلیم دے کر بھیجا؟ آپ نے فرمایا یہ کہ اللہ کی عبادت کی جائے۔بتوں کو چھوڑا جائے اور رحمی رشتوں کے حق ادا کئے جائیں۔میں نے کہا یہ تو بہت اچھی تعلیم ہے۔اسے کتنے لوگوں نے قبول کیا ہے۔آپ نے فرمایا ایک آزاد اور ایک غلام ( یعنی ابو بکر اور زیڈ۔اس جگہ حضور نے صرف گھر سے باہر کے مردوں کا ذکر کیا ہے ) گھر کی عورت خدیجہ اور بچے علی کا ذکر نہیں فرمایا۔عمرو نے اسلام قبول کر لیا۔وہ کہتے تھے کہ میں گو یا مر دوں میں چوتھے نمبر پر اسلام قبول کرنے والا تھا۔پھر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ کیا میں یہاں رہ کر آپ کی پیروی کروں؟ آپ نے فرمایا نہیں تم اپنی قوم میں جا کر اس تعلیم پر عمل کرو۔البتہ جب تمہیں میرے خروج یعنی ہجرت کا پتہ چلے پھر آکر میری پیروی کرنا۔(بیہقی) چنانچہ حضرت عمرو بن عنبسہ اپنے علاقہ میں رہ کر اسلام پر قائم رہے۔رسول کریم کی ہجرت مدینہ کے بعد وہ بھی مدینہ آپ کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔ابتدائی زمانے کی تبلیغ میں تدریج کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔حضرت عائشہ بیان فرماتی تھیں کہ اول رسول اللہ ﷺ پر وہ سورتیں اتریں جو مفصل کہلاتی ہیں اور جن میں جنت اور دوزخ کا ذکر ہے۔پھر جب کثرت سے لوگ اسلام میں داخل ہو گئے تو حلال وحرام کے احکام اترے۔اگر رسول اللہ آغاز میں یہ حکم دیتے کہ زنانہ کرو، شراب نہ پیو، چوری نہ کروتو لوگ کہتے ہم شراب بھی نہیں چھوڑیں گے ، ہم زنا بھی نہیں چھوڑیں گے۔( بخاری )7 آغاز میں صرف اقرار توحید ورسالت کروایا گیا۔پھر جوں جوں احکام الہی اتر تے گئے تدریجاً ان کی طرف دعوت دی گئی۔پس نئے لوگوں کو اسلام کی طرف لانے میں تدریج کا اصول کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔مخفی تبلیغ الله آغاز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مخفی طور پر انفرادی تبلیغ فرماتے رہے،حضرت ابو بکڑ نے بھی قبول اسلام کے بعد اپنی قوم کے قابل اعتماد افراد تک پیغام حق پہنچانے کا سلسلہ شروع کیا اور اس میں کامیابی بھی حاصل ہوئی۔پھر چراغ سے چراغ روشن ہونے لگا۔حضرت ابو بکر کے ذریعہ قریش کے چند نو عمر و جوان ایمان لے آئے۔ان اسلام قبول کرنے والوں پر آپ کی سیرت کی گہری چھاپ نظر آتی ہے جن میں حضرت عثمان بن عفان ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت زبیر بن العوام اور حضرت طلحہ بن عبد اللہ شامل ہیں۔جن کو رسول اللہ نے ان کی زندگی میں ہی جنت کی بشارت دی تھی۔ان کے علاوہ حضرت بلال اور کچھ اور غلام بھی اس عرصہ میں ایمان لائے۔رشتہ داروں سے تبلیغ عام کا آغاز تین سال بعد ارشاد ہوا۔فَاصْدَعْ بِمَاتُو مَرُ وَاعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكين ( سورة الحجر : 95 ) کہ جو حکم آپ کو