اسوہء انسانِ کامل — Page 242
اسوہ انسان کامل 242 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ ابی طالب ہے جو آپ پر ایمان لایا ہے۔عفیف کہا کرتے تھے کاش اس وقت میں ایمان لے آتا تو میرا تیسرا نمبر ہوتا۔( بیہقی 4 ) مگر یہ سعادت حضرت ابو بکر کو عطا ہوئی تھی۔اللہ تعالیٰ اپنے فرستادوں کے حق میں خود تائید و نصرت کی ہوائیں چلاتا اور ان کی تنہائی کے زمانہ کی دعائیں قبول فرماتے ہوئے انہیں مضبو ط معاون و مددگار عطا فرماتا ہے۔اسی زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر جیسی سعید روح کے دل میں اسلام کی جستجو پیدا کر دی اور انہوں نے خود آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعوی کی نسبت پوچھا تو آپ نے قریبی دوستی کے تعلق کے حوالہ سے ان پر معاملہ کھول دیا۔دعوت الی اللہ کا پہلا شیریں پھل ابن اسحاق ” بیان کرتے ہیں کہ ابو بکر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو پوچھا کہ اے محمد ! قریش کہتے ہیں کہ آپ نے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیا اور ان کو بے وقوف ٹھہرا کر ان کے باپ دادا کو کافر قرار دیا۔کیا یہ درست ہے؟ رسول اللہ نے فرمایا ہاں میں اللہ کا رسول اور اس کا نبی ہوں۔اس نے مجھے بھیجا ہے کہ میں اس کا پیغام پہنچاؤں اور اللہ کی طرف حق کے ساتھ دعوت دوں اور خدا کی قسم یہی حق ہے۔اے ابوبکر! میں آپ کو خدائے واحد کی طرف بلاتا ہوں جس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔اس خدا کی اطاعت کی خاطر ہماری دوستی ہونی چاہئے۔پھر حضور نے کچھ قرآن بھی ابوبکر کو سنایا۔ابو بکڑ نے اسلام قبول کر لیا اور بتوں سے بیزاری ظاہر کر کے اُنکا انکار کیا۔یوں ابوبکر اسلام قبول کر کے لوٹے۔حضرت ابو بکر نے رسول اللہ سے آپ کے دعوی کے لئے کوئی دلیل نہیں لی۔اسی لئے نبی کریم فرماتے تھے کہ جسے بھی میں نے اسلام کی طرف دعوت دی ، اسے ایک دھچکا سا لگا۔اسلام قبول کرنے میں تر قد ہوا اور وہ سوچ میں پڑ گیا سوائے ابو بکر کے کہ انہوں نے فوراً میری دعوت قبول کرلی اور ذرہ برابر بھی تردد نہیں کیا۔(بیہقی 5 ) مولانا روم نے کیا خوب کہا ہے لیک آں صدیق حق معجز نخواست گفت این رو خود نه گوید غیر راست یعنی صدیق اکبر نے رسول اللہ سے کوئی معجزہ طلب نہیں کیا یہی کہا کہ یہ چہرہ جھوٹے کا نہیں۔اس دوران رسول اللہ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بھی اپنے آقا و مولیٰ کا دین قبول کر چکے تھے۔اب قافلہ اسلام میں چار افراد ہو چکے تھے۔اعلانیہ تبلیغ کا سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔تبلیغ میں تدریج ہمارے نبی کریم نے آغاز میں عبادت الہی اور بنی نوع انسان سے حسن سلوک کی تعلیم کی طرف دعوت دی جیسا کہ حضرت عمرو بن عنبسہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ کی بعثت کے ابتدائی زمانہ میں مکہ آیا۔اس وقت رسول اللہ نے