اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 244 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 244

244 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ اسوہ انسان کامل دیا جاتا ہے اسے کھول کر سنا دیں اور مشرکوں سے اعراض کریں۔ساتھ ہی یہ حکیمانہ ارشاد ہوا کہ اس کا آغاز اپنے قریبی رشتہ داروں سے کیا جائے۔فرمایا وَ انْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ - وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ( سورۃ الشعراء: 215,216) ترجمہ: اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کر اور ان مومنوں کے لئے اپنا پہلو جھکا دے جنہوں نے تیری پیروی کی ہے۔رشتہ داروں کو تبلیغ اور پیغام حق قبول کرنے والوں سے حسن سلوک کا حکم گہری حکمت رکھتا ہے جو ایک پاکیزہ جماعت کے قیام کے لئے نہایت ضروری ہے۔اس حکم کی لفظا تعمیل کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی دفعہ اپنے رشتہ داروں کا مجمع عام کوہ صفا پر جمع کرنے کی انوکھی ترکیب یہ سوچی کہ علی الصبح صفا پہاڑی پر چڑھ کر اعلان کریں۔عرب دستور کے مطابق کسی اچانک مصیبت پر مدد کے لئے اکٹھا کرنے کا یہی طریق تھا۔چنانچہ نبی کریم نے قبائل قریش کے نام لیکر انہیں آواز دی کہ اے عبدالمطلب کی اولاد ! اے عبد مناف کی اولاد! اے قصی کی اولاد! پھر چھوٹے قبیلوں کے نام لے کر بلایا۔پہلے تو لوگوں نے دیکھا کہ بظاہر کوئی خطرہ نہیں مگر جب دیکھا کہ محمد بلارہے ہیں تو آپ کی آواز پر کوہ صفا پر اکٹھے ہو گئے۔جولوگ خود نہیں آسکتے تھے انہوں نے قاصد بھجوایا کہ دیکھیں کیا بات ہے۔نبی کریم نے کوہ صفا سے انہیں یوں مخاطب فرمایا: میں ایک ہوشیار کرنے والا ہوں۔میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک حملہ آور دشمن کو دیکھا ہو اور اپنے خاندان کو ہوشیار کرنے جائے مگر اسے ڈر بھی ہو کہ وہ اس کی بات نہیں مانیں گے اور وہ چلا چلا کر سب کو مدد کے لئے پکارنا شروع کر دے۔“ اس موقع پر نبی کریم نے اپنے بارے میں عزیز واقارب کی رائے بھی حاصل کی اور فرمایا اگر میں تمہیں کہوں کہ اس پہاڑی کے دامن سے ایک لشکر تم پر حملہ آور ہونے کو ہے تو کیا میری تصدیق کرو گے؟ انہوں نے کہا " کیوں نہیں ! آپ کی بات ضرور مانیں گے کیوں کہ ہمیں آج تک آپ سے بھی جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوا۔ہم نے ہمیشہ آپ کو سچا پایا ہے۔تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں تمہیں اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور اس کے عذاب سے ڈراتا ہوں۔آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مجھے اللہ نے حکم دیا ہے کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو یہ پیغام پہنچاؤں۔پس یا درکھو کہ میں نہ تو تمہارے لئے دنیا کے کسی فائدہ پر اختیار رکھتا ہوں نہ آخرت میں سے کوئی حصہ دلا سکتا ہوں ، سوائے اس کے کہ تم کلمہ تو حید لَا اللهُ إِلَّا الله کا اقرار کر لو۔اس موقع پر ابو لہب ناراض ہو کر گالیاں دیتا اُٹھ کھڑا ہوا اور مجمع بکھر گیا۔( بخاری )8 دعوت طعام کے ذریعہ تبلیغ حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ جب رشتہ داروں کو انذار کے بارہ میں ارشاد ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے دل میں ڈر پیدا ہوا۔مجھے پتہ تھا کہ میں جب بھی اہل خاندان کو تبلیغ شروع کروں گا تو ان کی طرف سے اچھا رد عمل ظاہر نہیں ہوگا۔کچھ عرصہ تو میں خاموش رہا اس پر جبریل نے مجھے آکر کہا کہ اگر آپ نے حکم