اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 241 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 241

اسوہ انسان کامل 241 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ آپ کی ایک حکمت عملی یہ تھی کہ مشترک قدروں سے بات کا آغاز فرماتے۔ہمیشہ تو حید کا پیغام مقدم رکھتے تھے۔جہاں ضروری ہوتا تالیف قلب کے ذریعہ بھی تبلیغ کا حق ادا کرتے۔اس راہ میں آپ نے دیکھ بھی سہے، تکالیف بھی برداشت کیں۔مارے پیٹے بھی گئے اور گالیاں بھی سنیں مگر ہمیشہ صبر کیا اور کمال استقامت کے ساتھ اپنی بعثت کے دن سے لے کر اس دن تک کہ دنیا سے کوچ فرمایا خدا کا پیغام پہنچانے میں کبھی ست ہوئے نہ ماندہ۔آپ حسب حکم الہی سخت معاند مشرکوں اور جاہلوں سے اعراض فرماتے تھے۔حتی الوسع بحث و جدال کی مجالس سے بچتے تھے۔اگر مباحثہ کی نوبت آہی جائے تو نہایت عمدگی اور حکمت سے احسن طریق پر بحث کی تعلیم دیتے تھے۔سوائے اس کے کہ مد مقابل زیادتی پر اتر آئے ہخت جواب سے پر ہیز کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق پیغام پہنچا کر اتمام حجت کرنا ضروری سمجھتے تھے۔کبھی پیچھے پڑ کر بات منوانے کی کوشش نہیں فرمائی۔فرماتے تھے اللہ تعالیٰ نے مجھے مبلغ ( یعنی پیغام پہنچانے والا ) بنا کر بھیجا ہے سختی کرنے والا نہیں بنایا۔(مسلم)3 اپنے زیر دعوت لوگوں کے لئے بھی دعا کرتے تھے اور اپنی مدد و نصرت کیلئے معاون ونصیر تیار ہونے کی دعائیں بھی۔ایسے داعیان جو آپ کی صحبت و تربیت سے فیض یاب ہونے کے بعد آگے جا کر دعوت اسلام بھی کریں اور مزید داعی الی اللہ بھی بنائیں۔انفرادی تبلیغ دعوت الی اللہ کا ایک بنیادی اصول حکمت انفرادی تبلیغ ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پہلو سے بھی دعوت الی اللہ کا بہترین نمونہ ہمیں دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قدم قدم پر آپ کی رہنمائی فرمائی اور دعوت الی اللہ کیلئے اعلیٰ حکمتیں تعلیم فرمائیں اور آپ نے ان پر عمل کر کے دکھا دیا۔آپ کے اخلاق و کردار عین قرآن کے مطابق تھے۔چنانچہ ابتدائی زمانہ میں پیغام حق پہنچانے میں جو حکمتیں بطور خاص ملحوظ رکھی گئیں ان میں اولین حکمت مخفی انفرادی تبلیغ ہے۔یعنی دعوتی نبوت کے ابتدائی تین سال تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عملی نمونہ ے نیز مخفی اور انفرادی طور پر تبلیغ فرماتے رہے جس کے نتیجہ میں آپ کے افراد خانہ حضرت خدیجہ، حضرت علی اور قریبی تعلق والوں حضرت ابو بکر اور حضرت زیڈ نے اسلام قبول کر لیا۔اس زمانہ کا کچھ حال اسماعیل بن ایاس اپنے دادا عفیف سے یوں بیان کرتے ہیں کہ میں تاجر آدمی تھا حج کے زمانہ میں منی آیا۔عباس بن مطلب بھی تاجر تھے۔ان کے پاس کچھ خرید وفروخت کے لئے آملاقات ہوئی۔میرے وہاں بیٹھے ہوئے ایک شخص نے خیمہ سے نکل کر خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنی شروع کر دی۔پھر ایک عورت اور ایک بچہ بھی اس کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔میں نے عباس سے پوچھا کہ یہ کون سا دین ہے۔ہمیں تو اس کی کچھ خبر نہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ محمد بن عبد اللہ ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ اللہ نے ان کو بھیجا ہے اور یہ کہ قیصر و کسری کے خزانے ان کے ہاتھ پر فتح ہوں گے۔ساتھ ان کی بیوی خدیجہ بنت خویلد ہیں جو آپ پر ایمان لے آئی ہیں۔یہ لڑکا ان کا چا زا علی بن