اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 88 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 88

اسوہ انسان کامل 88 حق بندگی ادا کرنے والا۔۔۔۔عبد کامل روئے زمین پر اس شان سے کب ہوئی ہوگی جو آپ نے کر دکھائی۔آپ اپنی نفل نماز کا آغاز تسبیح و تحمید سے کرتے اور اس کے لئے ایسے الفاظ کا انتخاب فرماتے کہ جن کو سوچ کر آج بھی روح وجد میں آجاتی ہے۔تسبیح وتحمید کے یہ ننے اور ترانے جو کبھی حراء کی تنہائیوں میں الاپے اور مکہ اور مدینہ کی خلوتوں میں آپ نے اپنے محبوب حقیقی سے سوز و گداز میں ڈوبی کیا کیا سرگوشیاں کیں یہ تو احادیث کا ایک طویل باب ہیں۔آپ نماز تہجد کا آغاز ہی ” اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ سے کرتے کہ سب تعریف تیرے لئے ہے ( بخاری ) 36 پھر رکوع سے کھڑے ہوتے تو عرض کرتے "اے اللہ تیری اتنی تعریفیں کہ جن سے آسمان بھر جائے۔۔۔اور اتنی تعریفیں کہ زمین بھی ان سے بھر جائے۔۔۔اور اتنی حمد کہ آسمان و زمین کے بعد جو تو چاہے وہ بھی بھر جائے اے تعریف اور بزرگی کے لائق۔(مسلم) 37 کوئی ہے جو اس ایک حمد سے ہی بڑھ کر کوئی حمد پیش کر سکے؟ نماز میں خشوع کبھی گھر کے لوگ سو جاتے تو رسول کریم چپ چاپ بستر سے اٹھتے اور دعا ومناجات الہی میں مصروف ہو جاتے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک رات جو میری آنکھ کھلی تو آپ کو بستر پر نہ پایا۔میں مجھی کہ آپ کسی اور بیوی کے حجرے میں تشریف لے گئے ہیں۔اندھیرے میں ادھر ادھر ٹولا تو دیکھا کہ پیشانی مبارک خاک پر ہے اور آپ سر بسجود مصروفِ دعا ہیں۔سُبْحَانَكَ وَ بِحَمْدِكَ لَا إِلَهُ إِلَّا أَنتَ - اے اللہ! تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ۔تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔فرماتی ہیں یہ دیکھ کر مجھے اپنے شبہ پر ندامت ہوئی اور دل میں کہا۔سبحان اللہ! میں کس خیال میں ہوں اور خدا کا رسول کس عالم میں ہے۔(نسائی) 38 رات کے وقت جب سارا عالم محو خواب ہوتا لوگ میٹھی نیند سور ہے ہوتے۔آپ چپکے سے بستر چھوڑ کر بعض دفعہ سنسان قبرستان میں چلے جاتے اور ہاتھ اُٹھا کر دعا میں مصروف ہو جاتے۔ایک دفعہ حضرت عائشہ تجس کیلئے پیچھے گئیں تو آپ جنت البقیع میں کھڑے دعا مانگ رہے تھے۔اپنے رب سے محوراز و نیاز تھے۔حضرت عائشہ سے فرمایا کہ تم نے یہ کیوں سوچا کہ خدا کا رسول تم پر ظلم کرے گا۔(یعنی تمہاری باری میں کہیں اور کیسے جا سکتا تھا ) پھر فرمایا مجھے جبریل نے آکر تحریک کی کہ اہل بقیع کی بخشش کی دعا کروں اور میں نے خیال کیا تم سوگئی ہو اس لئے جگانا نا مناسب سمجھا۔(نسائی) 39 حضرت عائشہ کی ایک اور روایت ہے کہ ایک رات میری باری میں باہر تشریف لے گئے۔کیا دیکھتی ہوں کہ ایک کپڑے کی طرح زمین پر پڑے ہیں اور کہ رہے ہیں سَجَدَ لَكَ سَوَادِي وَ خِيَالِی وَ آمَنَ لَكَ فُؤَادِي رَبِّ هَذِهِ يَدَايَ وَمَا جَنَيْتُ بِهَا عَلَى نَفْسِى يَا عَظِيمًا يُرْجَى لِكُلِّ عَظِيمٍ اغْفِرَ الذَّنْبَ الْعَظِيم (سیمی ) 40 (اے اللہ ) تیرے لئے میرے جسم و جاں سجدے میں ہیں۔میرا دل تجھ پر ایمان لاتا ہے۔اے میرے رب ! یہ