اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 87 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 87

اسوہ انسان کامل 87 حق بندگی ادا کرنے والا۔۔۔۔عبد کامل رب مجھے بخش دے کہتے ہوئے اتنی دیر بیٹھے جتنی دیر سجدہ کیا تھا۔دوسری رکعتوں میں آپ نے آل عمران، نساء، مائدہ، انعام وغیرہ طویل سورتیں تلاوت فرمائیں۔(ابوداؤد ) 30 ام المومنین حضرت سودا نہایت سادہ اور نیک مزاج تھیں، ایک رات انہوں نے بھی اپنی باری میں نبی کریم ہے کے ساتھ نماز تہجد ادا کرنے کا ارادہ کیا اور حضور کے ساتھ جا کر نماز میں شامل ہوئیں، نامعلوم کتنی نماز ساتھ ادا کر پائیں۔مگر اپنی سادگی میں دن کو رسول کریم کے سامنے اس لمبی نماز پر جو تبصرہ کیا اس سے حضور بہت محظوظ ہوئے۔کہنے لگیں یا رسول اللہ !ارات آپ نے اتنا لمبا رکوع کروایا کہ مجھے تو لگا تھا جھکے جھکے کہیں میری نکسیر ہی نہ پھوٹ پڑے۔“ حضور ( جن کی ہر رات کی نماز ہی ایسی لمبی ہوتی تھی ) یہ تبصرہ بن کر خوب مسکرائے۔( ابن حجر ) 31 بسا اوقات رسول کریم ساری ساری رات عبادت میں گزار دیتے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ” میں نے رسول اللہ کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی۔آپ اتنی دیر ( نماز میں) کھڑے رہے کہ میں نے ایک بُری بات کا ارادہ کر لیا۔پوچھا گیا کہ کیا ارادہ تھا؟ فرمایا ” میں نے سوچا کہ رسول اللہ کو چھوڑ کر بیٹھ جاؤں۔“ ( بخاری ) 32 حضرت ابوذر بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ایک رات نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے اور ساری رات ایک ہی آیت قیام، رکوع اور سجود میں پڑھتے رہے۔یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ابوذر سے پوچھا گیا کہ وہ کون سی آیت تھی۔فرمایا یہ آیت : إِنْ تُعَذِّبُهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادَكَ وَإِنْ تَغْفِرُ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (المائدة: 119) خدایا! اگر تو انہیں عذاب دے گا تو وہ تیرے ہی بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو تو بہت غالب اور بڑی حکمتوں والا خدا ہے۔(نسائی) 33 سبحان اللہ! خدا اور اس کے رسول کے دشمن آرام کی نیند سور ہے ہیں اور خدا کا پیارا رسول بے قرار ہو کر گڑ گڑا کر بارگاہ ایزدی میں ان کی مغفرت کا ملتی ہے۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ آخری عمر میں جب حضور کے بدن میں کچھ موٹاپے کے آثار ظاہر ہوئے۔تو بیٹھ کر تہجد ادا کرتے اور اس میں لمبی تلاوت فرماتے۔جب سورت کی آخری تمہیں یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہو کر تلاوت کرتے پھر سجدے میں جاتے۔( بخاری )34 حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں۔آپ کچھ دیر سوتے پھر اٹھ کر نماز میں مصروف ہوتے پھر سو جاتے پھر اُٹھ بیٹھتے اور نماز ادا کرتے۔غرض صبح تک یہی حالت جاری رہتی۔(ترمذی) 35 حمد باری یہ نماز میں بھی یاد الہی اور اللہ کی حمد سے خوب لبریز ہوتی تھیں اور اس پہلو سے اللہ کی حمد کرنے میں آپ کی ایک اور سبقت کی شان بھی کھل کر سامنے آتی ہے ، جیسا کہ آپ کا نام ”احمد“ بھی تھا واقعی آپ اسم بامسمی تھے۔اللہ کی حمد وستائش