اسوہء انسانِ کامل — Page 89
89 حق بندگی ادا کر نے والا۔۔۔۔عبد کامل اسوہ انسان کامل میرے دونوں ہاتھ تیرے سامنے پھیلے ہیں اور جو کچھ میں نے ان کے ساتھ اپنی جان پر ظلم کیا وہ بھی تیرے سامنے ہے۔اے عظیم ! جس سے ہر عظیم بات کی اُمید کی جاتی ہے۔عظیم گناہوں کو تو بخش دے۔پھر فرمایا اے عائشہ! جبریل نے مجھے یہ الفاظ پڑھنے کیلئے کہا ہے تم بھی اپنے سجدوں میں یہ پڑھا کرو۔جو شخص یہ کلمات پڑھے سجدے سے سراٹھانے سے پہلے بخشا جاتا ہے۔“ عبادت سے محبت رسول کریم کو اپنے رب کی عبادت ہر دوسری چیز سے زیادہ عزیز تھی۔اپنی عزیز ترین بیوی حضرت عائشہ کے ہاں نویں دن باری آتی تھی۔ایک دفعہ موسم سرما کی سرد رات کو ان کے لحاف میں داخل ہو جانے کے بعد ان سے فرماتے ہیں کہ عائشہ ! اگر اجازت دو تو آج رات میں اپنے رب کی عبادت میں گزار دوں وہ بخوشی اجازت دیتی ہیں اور آپ ساری رات عبادت میں روتے روتے سجدہ گاہ تر کر دیتے ہیں۔( سیوطی ) 41 نماز میں رسول کریم کی خشوع و خضوع کا یہ عالم ہوتا تھا کہ روتے ہوئے سینے سے ہنڈیا اُبلنے کی طرح آواز آتی تھی۔( احمد )42 راتوں کی عبادت کے حوالے سے حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے بجاطور پر آپ کی یہ تعریف کی کہ يَبيتُ يُجَافِي جَنْبَهِ عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْمُشْرِكِينَ الْمَضَاجِعُ کہ آپ اس وقت بستر سے الگ ہو کر رات گزار دیتے ہیں جب مشرکوں پر بستر کو چھوڑ نا نیند کی وجہ سے بہت بوجھل ہوتا ہے۔( بخاری )43 رمضان المبارک میں عبادت کا اہتمام عبادات اور دعا ئیں تو آپ کا عام معمول تھا۔رمضان کے مہینہ میں آپ کی عبادات میں بہت اضافہ ہو جاتا۔خصوصاً رمضان کے آخری عشرہ کے اعتکاف میں تو بہت زیادہ عبادت کرتے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔”جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو آپ کمر ہمت کس لیتے۔بیدار رہ کر راتوں کو زندہ کرتے ، خود بھی عبادت کرتے ، اہل بیت کو بھی جگاتے۔اس آخری عشرہ میں آپ اعتکاف بھی فرماتے۔“ (بخاری) 44 آنحضور سارا وقت خدا کے گھر میں بیٹھ کر یاد الہی اور عبادت میں مصروف رہتے۔حضرت انس کا بیان ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم کچھ بیمار تھے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آج کچھ بیماری کا اثر آپ پر نمایاں ہے۔فرمانے لگے اس کمزوری کے باوجود آج رات میں نے طویل سورتیں نماز تہجد میں پڑھی ہیں۔( ابن الجوزی) 45 صحابہ کرام رسول اللہ کی کثرت عبادت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ اس قدر لمبی نمازیں پڑھتے اور اتنا