اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 59 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 59

حضرت کعب مجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! آپ پر سلام بھیجنے کا تو ہمیں علم ہے مگر آپ پر درود کیسے بھیجیں۔فرمایا کہ یہ کہو کہ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وعَلى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔وَبَارِك عَلى مُحَمَّدٍ وعَلى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مجيد - (صحیح ترمذی ابواب الوتر، باب ما جاء فى صفة الصلوة على النبي تو یہ ہے۔جو نماز کا درود ہے وہ ذرا اور تفصیل میں ہے۔صلى الله عليه وسلم۔پھر اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کسی کو خط میں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ” نماز تہجد اور اور اد معمولی میں آپ مشغول رہیں۔تہجد میں بہت سے برکات ہیں۔بیکاری کچھ چیز نہیں۔بیکار اور آرام پسند کچھ وزن نہیں رکھتا۔وقال الله تعالى ﴿وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (سورة العنكبوت: آیت 70) درود شریف وہی بہتر ہے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلا ہے اور وہ یہ ہے : اللَّهُمَّ صَلِّ عَالَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيْدٌ - فرمایا کہ: وو ” جو الفاظ ایک پرہیز گار کے منہ سے نکلتے ہیں اُن میں ضرور کسی قدر برکت ہوتی ہے۔پس خیال کر لینا چاہئے کہ جو پر ہیز گاروں کا سردار اور نبیوں کا سپہ سالار ہے اس کے منہ سے جو لفظ نکلے ہیں وہ کس قدر متبرک ہوں گے۔غرض سب اقسام درود شریف سے یہی 59