اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 58
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ” جو شخص ایک دن میں ہزار بار مجھ پر درود بھیجے گاوہ اسی زندگی میں جنت کے اندر اپنا مقام دیکھ لے گا“۔(جلاء الافہام۔بحواله ابن الغازى وكتاب الصلوة على النبى لأبي عبدالله المقدسي) تو درود کی برکت سے جو تبدیلیاں پیدا ہوں گی وہ اس دنیا کی زندگی کو بھی جنت بنانے والی ہوں گی۔اور یہی عمل اور نیکیاں اور پاک تبدیلیاں ہیں جو جہاں اس دنیا میں جنت بنا رہی ہوں گی ، اگلے جہان میں بھی جنت کی وارث بنا رہی ہوں گی۔حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ” جب تم مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنو تو تم بھی وہی الفاظ دہراؤ جو وہ کہتا ہے۔پھر مجھ پر درود بھیجو۔جس شخص نے مجھ پر درود پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر دس گنا رحمتیں نازل فرمائے گا۔پھر فرمایا میرے لئے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ مانگو یہ جنت کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندے کو ملے گا اور میں امید رکھتا ہوں کہ وہ میں ہی ہوں گا۔جس کسی نے بھی میرے لئے اللہ سے وسیلہ مانگا اس کے لئے شفاعت حلال ہو جائے گی“۔(صحيح مسلم كتاب الصلوة۔باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعه صلى الله ثم يصلى على النبي ) عليه وسلم پس یہ جو اذان کے بعد کی دعا ہے اس کو ہر احمدی کو یاد کرنا چاہئے اور پڑھنا چاہئے۔درود بھیجنے کی اہمیت اور درود کے فوائد تو واضح ہو گئے لیکن بعض لوگ یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ کس طرح درود بھیجیں۔مختلف لوگوں نے مختلف درود بنائے ہوئے ہیں۔لیکن اس بارے میں ایک حدیث ہے۔58