اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 60 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 60

درود شریف زیادہ مبارک ہے۔( مختلف قسمیں ہیں درود شریف کی ان میں سے یہی درود شریف زیادہ مبارک ہے۔) '' یہی اس عاجز کا ورد ہے اور کسی تعداد کی پابندی ضروری نہیں۔اخلاص اور محبت اور حضور اور تضرع سے پڑھنا چاہئے اور اس وقت تک ضرور پڑھتے رہیں کہ جب تک ایک حالت رقت اور بے خودی اور تاثر کی پیدا ہو جائے اور سینے میں انشراح اور ذوق پایا جائے“۔(مکتوبات احمدیه۔جلد اوّل۔صفحه 17-18) تو یہ وہی درود ہے جو ہم نماز میں پڑھتے ہیں، جیسا کہ میں نے کہا، اور زیادہ تر اسی کا ورد کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ تعداد نہیں دیکھنی چاہئے۔حدیث میں آیا ہے کہ جو ایک ہزار مرتبہ کرتا ہے اس کا مطلب ہے کہ جتنا زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی بعض لوگوں کو تعداد بتائی۔کسی کو سات سو دفعہ روزانہ پڑھنایا گیارہ سودفعہ پڑھنا بتایا۔تو یہ کم ہرشخص کے اپنے حالات اور معیار کے مطابق ہے، بدلتا رہتا ہے۔بہر حال یہ درود شریف ہمیں پڑھنا چاہئے اس لئے میں نے جو بلی کی دعاؤں میں بھی ایک تو وہ حضرت مسیح موعود کی الہامی دعا ہے: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ اَللّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّالِ مُحَمَّدٍ۔اس کے علاوہ میں نے کہا تھا کہ درود شریف بھی پورا پڑھا جائے تو اس لئے کہا تھا کہ اصل درود شریف جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا اس کو ہمیں اپنی دعاؤں میں ضرور شامل رکھنا چاہئے۔لیکن وہی بات جس طرح حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ اتنا ڈوب کر پڑھیں کہ ایک خاص کیفیت پیدا ہو جائے اور جب اس طرح ہوگا تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن رہے ہوں گے۔60