اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 57
پھر ایک موقع پر آپ نے فرمایا : " کثرت سے اللہ کو یاد کرنا اور مجھ پر درود بھیجنا تنگی کے دور ہونے کا ذریعہ ہے۔“ (جلاء الافهام فصل الموطن السادس والعشرون من مواطن الصلوة عليه علي اللهم عند المام الفقر والحاجة اوخوف) اب یہ جو رزق کی تنگی ہے۔حالات کی تنگی ہے۔آجکل مسلمانوں پر بھی جو تنگیاں وارد ہورہی ہیں۔مغرب نے اپنے لئے اور اصول رکھے ہوئے ہیں اور ان مسلمان ممالک کے لئے اور اصول رکھے ہوئے ہیں، اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجا جائے اور ان برکات سے فیضیاب ہو ا جائے جو درود پڑھنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے وابستہ کر رکھی ہیں۔ایک روایت ہے۔( تھوڑا سا حصہ پہلے بھی بیان کیا ہے ) اس کی تفصیل ایک اور جگہ بھی آتی ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔” قیامت کے روز اس دن کے ہر ایک ہولناک مقام میں تم میں سے سب سے زیادہ مجھ سے قریب وہ شخص ہو گا جس نے دنیا میں مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجا ہوگا۔(تفسير در منثور بحواله شعب الايمان للبيهقى وتاريخ ابن عساكر ) دیکھیں اب کون نہیں چاہتا کہ قیامت کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب میں جگہ پائے۔اور ہر خطر ناک جگہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پکڑ کر نکلتا چلا جائے۔یقینا ہر کوئی اللہ تعالی کے غضب سے بچنا چاہتا ہے تو پھر یہ اس سے بچنے کا اور آپ لے کے قرب میں رہنے کا طریق ہے جو آپ نے ہمیں بتایا ہے۔اس لئے ہر وقت مومن کو درود بھیجنے کی طرف توجہ رہنی چاہئے اور ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے درود بھیجنا چاہئے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت 57