اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 54
اب دیکھیں دلی خلوص شرط ہے۔بہت سے لوگ دعائیں کرنے یا کروانے والے یہ لکھتے ہیں کہ ہم دعا ئیں بھی بہت کر رہے ہیں آپ بھی دعا کریں اور در دو بھی پڑھتے ہیں لیکن لمبا عرصہ ہو گیا ہے ہماری دعائیں قبول نہیں ہور ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ در و د کس طرح بھیجو۔فرمایا کہ صَادِقاً مِّنْ نَّفْسِہ اس طرح بھیجو کہ خالص ہو جاؤ۔درود بھیجتے ہوئے ہر کوئی اپنے نفس کو ٹولے، اپنے دل کو ٹولے کہ اس میں دُنیا کی کتنی ملونیاں ہیں اور کتنا خالص ہو کر درود بھیجنے کی طرف توجہ ہے۔کتنا خالص ہو کر در و دبھیجا جارہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ: دو درودشریف جو حصول استقامت کا ایک زبر دست ذریعہ ہے بکثرت پڑھومگر نہ رسم اور عادت کے طور پر بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور احسان کو مدنظر رکھ کر اور آپ کے مداراج اور مراتب کی ترقی کے لئے اور آپ کی کامیابیوں کے واسطے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قبولیت دعا کا شیریں اور لذیذ پھل تم کو ملے گا۔دو (ريويو آف ريليجينز اردو جلد 3۔نمبر 1۔صفحه 115) پس یہ ہیں درود بھیجنے کے طریقے۔پھر آپ نے فرمایا کہ: ” (اے لوگو!) اس محسن نبی پر درود بھیجو جو خداوند رحمن ومنان کی صفات کا مظہر ہے۔کیونکہ احسان کا بدلہ احسان ہی ہے اور جس دل میں آپ کے احسانات کا احساس نہیں اُس میں یا تو ایمان ہے ہی نہیں اور یا پھر وہ ایمان کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔اے اللہ ! اس امی رسول اور نبی پر درود بھیج جس نے آخرین کو بھی پانی سے سیر کیا ہے جس طرح اس نے اولین کو سیر کیا اور انہیں اپنے رنگ میں رنگین کیا تھا اور انہیں پاک لوگوں میں داخل کیا تھا۔(ترجمه از عربی ] اعجاز المسیح - روحانی خزائن۔جلد 18۔صفحہ5-6) 54