اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 55
اس طرح خالص ہو کر درود بھیجیں گے جس سے ایک جماعتی رنگ بھی پیدا ہو جائے تو وہ ایسا درود ہے جو پھر اپنے اثرات بھی دکھاتا ہے۔ایسے لوگ جو کہتے ہیں درود کا اثر نہیں ہوتا ان پر اس حدیث سے بھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس کلام سے بھی بات واضح ہو جانی چاہئے اور کبھی بھی درود بھیجنے سے تنگ نہیں آنا چاہئے بلکہ اپنے نفس کو ٹولنا چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو مجھ پر درود نہ بھیجے وہ بڑا بخیل ہے، کنجوس ہے۔اور اس بخل کی وجہ سے جہاں وہ بخل کرنے کا گناہ اپنے اوپر سہیڑ رہا ہوتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے بھی محروم ہو رہا ہوتا ہے۔جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ ایک بار درود بھیجنے والے پر اللہ تعالیٰ دس مرتبہ درود بھیجتا ہے۔(جلاء الافهام۔صفحه 318 بحواله سنن النسائي یہ اللہ تعالیٰ کی سلامتی حاصل کرنا تو ایسا سودا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض صحابہ بھی سب دعا ئیں چھوڑ کر صرف درود بھیجا کرتے تھے۔ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک سمج خلقی اور بداعتباری کی بات ہے کہ ایک شخص کے پاس میراذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔(جلاء الافهام۔صفحه 327 مطبوعه 1897ء۔امرتسر) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا گردنوں کو آزاد کرنے سے بھی زیادہ فضیلت رکھتا ہے اور آپ کی صحبت اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دینے یا جہاد کرنے سے بھی افضل ہے“۔(تفسير درّمنثور بحواله تاريخ خطيب وترغیب اصفهانی بحوالہ درود شریف۔صفحہ 160) یہ جو آجکل کے نام نہاد جہاد ہورہے ہیں غیروں سے بھی جنگیں ہیں اور آپس میں بھی 55