اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 53
قرآن کریم میں بے شمار احکام ہیں جن کے کرنے کا حکم ہے اور ان پر عمل کرنے کے نتیجے میں کیا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیارے بن جاؤ گے، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے وارث ٹھہرو گے، اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے بن جاؤ گے، جہنم سے بچائے جاؤ گے، جنت میں داخل ہوگے۔یہاں یہ حکم ہے کہ یہ اتنا بڑا اور عظیم کام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کو بھی اس کام پر لگایا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ خود بھی اپنے پیارے نبی ﷺ پر درود وسلام بھیجتا ہے۔اس لئے یہ ایسا عمل ہے جس کو کر کے تم اُس عمل کی پیروی کر رہے ہو یا اس کام کی پیروی کر رہے ہو جو خدا تعالیٰ کا فعل ہے۔تو جب اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حکموں پر عمل کرنے سے اتنے بڑے اجروں سے نوازتا ہے تو اس کام کے کرنے سے جو خود خدا تعالیٰ کرتا ہے کس قدر نوازے گا۔اور یہ یقیناً خالص ہو کر بھیجا گیا درود اُمت کی اصلاح کا باعث بھی بنے گا۔اُمت کو رسوائی سے بچانے کا باعث بھی بنے گا۔ہماری اصلاح کا باعث بھی بنے گا۔اور ہماری دعاؤں کی قبولیت کا بھی ذریعہ بنے گا۔ہمیں دجال کے فتنوں سے بچانے کا ذریعہ بھی بنے گا۔احادیث میں درود کے فوائد مختلف روایات میں ملتے ہیں۔ایک روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے نزدیک وہ شخص ہو گا جو اُن میں سے سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجنے والا ہوگا۔(ترمذى۔كتاب الصلوة باب ما جاء في فضل الصلوة على النبي علي الله) پھر فرمایا : جو شخص مجھ پر دلی خلوص سے ایک بار درود بھیجے گا اس پر اللہ تعالیٰ دس بار درود بھیجے گا اور اسے دس درجات کی رفعت بخشے گا (اور اس کی دس نیکیاں لکھے گا ) اور دس گناہ معاف کرے گا۔(سنن النسائى كتاب السهو باب الفضل فى الصلوة على النبي علي الله) 53