اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 21
اُردو کی کتاب چهارم میں ایک بے سروسامان اسلامی حکومت اس طرح منظم حکومتوں پر چھا گئی۔حضرت عمر نے توسیع سلطنت اور فتوحات کے ساتھ ساتھ ملکی انتظامات کی طرف بہت توجہ دی۔ملک کو مختلف صوبوں میں تقسیم کیا اور ہر صوبے میں حاکم صوبہ، فوجی ، میرنشی، افسر مال، پولیس افسر ، قاضی اور خزانچی مقرر کئے۔عدالت، پولیس اور فوج کے الگ الگ محکمہ جات قائم کئے۔ڈاک کا انتظام کیا۔جیل خانے بنائے۔ٹکسال بنا کر چاندی کے سکے رائج کئے۔مدینہ میں نیز تمام ضلعی مراکز میں بیت المال قائم کئے۔فوج کی تنخواہیں اور مستحقین کے وظیفے مقرر کئے اور دفتری نظام کی داغ بیل ڈالی رفاہِ عامہ کے سلسلہ میں بڑے بڑے شہروں میں مسافر خانے تعمیر کرائے۔مکہ اور مدینہ کے درمیان چوکیاں، سرائے اور حوض تعمیر کرائے اور کئی نہریں کھدوائیں۔حضرت عمر نے 99 میل ایک لمبی نہر کھدوا کر دریائے نیل کو بحر احمر ( بحر قلزم ) سے ملا دیا جس سے تجارت کو بہت فروغ ہوا اور مصر کے جہاز براہِ راست مدینہ کی بندرگاہ آنے لگے حضرت عمرؓ نے سنہ ہجری کا آغاز کیا اور اسلامی تقویم (کیلینڈر) کی ابتداء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے سال سے کی۔سیرت: حضرت عمرؓ بڑی سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔باوجود وسیع سلطنت کے حکمران ۲۱