اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 156
اُردو کی کتاب چهارم مورخه ۱/۲۲ کتوبر ۱۹۰۵ء کو مفتی صاحب نے بعض احباب کی خواہش پر دہلی کی سیر کی اجازت چاہی تو حضور نے فرمایا: لہو ولعب کے طور پر پھر نا درست نہیں یہ فضول بات ہے میں اس کو پسند نہیں کرتا۔ہاں دہلی میں اکثر اولیاء اللہ اورا کا برامت کے مزار ہیں ان پر جانے کا ہمارا بھی ارادہ ہے وہاں ہو آئیں۔ایک فہرست ان مزاروں کی تیار کر لی جائے۔چنانچہ مندرجہ ذیل بزرگوں کے نام لکھوائے گئے۔(۱) خواجہ باقی باللہ صاحب۔(۲) خواجہ میر درد صاحب۔(۳) شاہ ولی ข اللہ صاحب (۴) خواجہ نظام الدین صاحب (۵) خواجہ قطب الدین صاحب بختیار کاکی (۶) مخدوم نصیر الدین محمود چراغ صاحب۔اس سفر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳ روز دہلی میں مقیم رہے اور ۴ نومبر ۱۹۰۵ء کو دہلی سے روانہ ہوکر ۵ /نومبر کو قریباً گیارہ بجے لدھیانہ پہنچ گئے۔حضرت المصلح الموعودؓ کا سفر دبلی : : سید نا حضرت مرزا بشیرالدین محموداحمدخلیفہ محی الثانی رضی اللہ عنہ کی با دیلی تشریف لائے اور آپ کی دہلی میں ایک اہم ترین تشریف آوری اُس وقت ہوئی جب کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ۱۹۴۴ء میں یہ خبر دی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہوشیار پور میں جس مصلح موعود کے عطا ہونے کی بشارت دی گئی تھی آپ ہی اس کے 6 ۱۵۶