اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 155
اُردو کی کتاب چهارم صاحب اور مولوی محمد حسین بٹالوی شمالی دروازے سے داخل ہوئے اور اسی دالان میں بیٹھے گئے جس کا سلسلہ دروازے کے اندر قدم رکھتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی محمد نذیر حسین صاحب کو ایک رقعہ لکھا کہ : میں موجود ہوں ، مجھ سے بحث کریں ، اگر بحث سے عاجز ہیں تو یہ قسم کھالیں کہ میرے نزدیک ابن مریم کا زندہ آسمان پر اُٹھایا جانا قرآن وحدیث کے نصوص صریحہ قطعیہ بینہ سے ثابت ہے۔اس قسم کے بعد اگر ایک سال تک آپ اس جھوٹے حلف کے اثر بد سے محفوظ رہے تو میں آپ کے ہاتھ پر تو بہ کروں گا بلکہ اس مضمون کی تمام کتابیں جلا دوں گا۔(بحواله از تاریخ احمدیت جلد دوم صفحه ۲۳۸) افسوس ! مخالف علماء نے اس سنہرے موقع کو ضائع کر دیا نہ بحث کی نہ قسم کھائی۔تیسرا سفر: مور حد ۲۱ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو صبح آٹھ بجے کے قریب قادیان سے روانہ ہوئے اور رات نو بجے بذریعہ ریل گاڑی امرتسر سے دہلی کے لئے عازم سفر ہوئے۔اٹھارہ گھنٹے کی مسافت کے بعد قریبا تین بجے دہلی پہنچے۔دہلی میں الف خاں سیاہی والے مکان واقع چتلی قبر متصل مسجد سید رفاعی صاحب میں قیام فرمایا۔ان دنوں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب اسٹنٹ سرجن بھی دہلی کے ڈفرن ہسپتال میں متعین تھے۔۱۵۵