حضرت اُمّ طاہر — Page 32
سیرت حضرت سیدہ مریم النساء (أم طاہر صاحبہ ) الْعَظِيمُ O اور میں نے دیکھا کہ برابر وفات تک اُن کے ہونٹ ملتے رہے اور گوان کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی مگر ان کے ہونٹوں کے ملنے سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ برابر وہی دعائیں مانگ رہی ہیں۔میں نے ان کی وفات پر جو پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ میں نے اس جگہ زمین پر خدا تعالیٰ کے حضور شکر کا سجدہ کیا کہ ان کا انجام بخیر ہو گیا۔اور تکلیف دہ لیسی بیماری نے ان کے دل میں اپنے رب سے کوئی شکوہ نہیں پیدا کیا۔اور اس کی قضا پر وہ راضی ہو کر اس دنیا سے گئیں الحمد للہ رب العالمین۔میں سمجھتا ہوں در حقیقت ایک مومن کے لئے سب سے بڑی چیز یہی ہے کہ مرتے وقت اس کی زبان پر اور اس کے عزیزوں کے زبان پر خدا تعالیٰ کا ذکر ہو اور اس کا دل مطمئن ہو اور دعائیں اس کی زبان پر جاری ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہو اور اس کی بخشش اس کا احاطہ کرے۔وفات کے بعد اُن کی شکل سے کسی طرح بھی یہ ظاہر نہ ہوتا تھا کہ ان کے دل میں موت کے وقت کسی قسم کا کرب تھا بلکہ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی اطمینان سے سورہا ہو۔20 6 مارچ 1944 ء کو آپ کی تجہیز و تکفین ہوئی جس میں بہت ہی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے اور جس طرح آپ کی بیماری کے دوران خصوصی دعاؤں کی طرف جماعت کی توجہ رہی تھی اسی طرح جنازہ میں بھی مسنون دعائیں 32