حضرت اُمّ طاہر

by Other Authors

Page 16 of 47

حضرت اُمّ طاہر — Page 16

سیرت حضرت سیدہ مریم النساء (أم طاہر صاحبہ ) خلیفہ اسیح الثانی) کی طرف سے ان دنوں کے مالی حالات کے پیش نظر جو فریق ملتا تھا اس سے اتنی گنجائش نہیں نکل سکتی تھی کہ گھلا گھی خرچ کیا جا سکے اور جتنا بھی اس غرض کے لئے خرچ کیا جاسکتا تھا اس میں باور چی نے مطلوبہ پراٹھے بنانے سے انکار کر دیا تھا۔باورچی مُصر تھا کہ یا مجھے تھی زیادہ دو یا مجھ سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔ادھر خرچ کی تنگی اس کی اجازت نہیں دیتی تھی۔چنانچہ ایک دو روزے اسی کشمکش میں گزر گئے اور عملہ کے اراکین سالن کے ساتھ عام روٹی کھا کر ہی گزارہ کرتے رہے۔ماشکی نے امی سے شکایت کی کہ خشک روٹی سے روزے رکھ کر مجھ سے اتنی محنت کا کام نہیں ہوتا ہے۔حالانکہ محنت کرنے والوں کو روزے کے دنوں میں اچھی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔چنانچہ اسی رات سے آپ نے خود اُٹھ کر پراٹھے پکانے شروع کئے اور اللہ تعالیٰ نے ایسی برکت عطا فرمائی کہ اسی گھی میں جس میں باورچی کے نزدیک اتنے افراد کیلئے پراٹھے پکنے ناممکن تھے سارے عملے کی ضرورت پوری ہوتی رہی۔بیماری کی وجہ سے بعض اوقات آپ کو خاصی تکلیف اٹھانی پڑتی تھی مگر آپ کہتی تھیں کہ میں یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ محنت کرنے والے لوگ سحری کے وقت خشک روٹی کھائیں۔آپ مزید فرماتے ہیں۔16