حضرت اُمِّ عمّارہ ؓ

by Other Authors

Page 3 of 25

حضرت اُمِّ عمّارہ ؓ — Page 3

حضرت ام عمارة 3 اپنے پاس لے جانے کی خواہش رکھتے ہو، تو اگر تم ان کی حفاظت کے پورے طور پر ذمہ دار بنتے ہو تو بہتر ورنہ ابھی سے جواب دے دو۔“ یہ سن کر حضرت ابراء بن معرور انصاری نے حضرت محمد مے کا ہاتھ تھاما اور عرض کیا:۔صلى الله ہمیں اس خدا کی قسم ہے جس نے آپ ﷺ کو حق وصداقت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ہم جنگی سپوت ہیں! ہماری روایات تابندہ تر ہیں ! ہم مرد میدان ہیں ! ہم اپنی جانوں سے بڑھ کر آپ ﷺ کی حفاظت کریں گے!“ یہ وعدے پر قائم رہنے اور بیچ بولنے کا پہلا سبق تھا۔جو مکہ کی گھائی میں باندھا گیا۔قرآنِ مجید کے بیان کے مطابق یہ وہ سودا تھا جو انصار سے ہمارے آقا ﷺ نے اپنے خدا کی خاطر کیا۔جب تک دنیا قائم ہے اس عہد کا ذکر ہوتا رہے گا۔اس وفد میں حضرت اُمِ عمارہ اور ان کے شوہر عربہ بن عمر و شامل تھے اس لئے انہیں پہلے ایمان لانے والوں میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہے۔اس موقع پر آپ ﷺ نے حضرت ام عمارہ اور اسماء بنت عمرو سے بیعت لی۔آپ مہ نے ان دونوں خواتین سے ہاتھ نہیں ملایا۔صلى الله کیونکہ آنحضرت عے خواتین سے ہاتھ نہیں ملاتے تھے اور ان کا زبانی