حضرت اُمِّ عمّارہ ؓ

by Other Authors

Page 2 of 25

حضرت اُمِّ عمّارہ ؓ — Page 2

حضرت ام عمارة 2 ہجرت سے تین ماہ قبل ہوا جب حضرت مصعب بن عمر مد بینہ کے ایک وفد کو لے کر مکہ روانہ ہوئے۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ،حضرت کعب بن مالک روایت کرتے ہیں کہ حج کے موقع پر عید سے اگلے روز ہم بھٹ نیتر پرندے کی طرح کھسک کر عقبہ کی گھاٹی میں اکٹھے ہو گئے۔اس وفد میں مردوں کے ساتھ دوعورتیں بھی تھیں۔ایک حضرت ام عمارہ اور دوسری بنی سلمی کی اسماء بنت عمرو۔وفد کے لوگ گھاٹی میں جمع ہو گئے تو حضور علیہ حضرت عباس کے ساتھ تشریف لائے۔عباس اس وقت ظاہر ا مسلمان نہیں ہوئے تھے صلى الله لیکن وہ آنحضرت علیہ کے دلی ہمدرد اور خیر خواہ تھے۔مدینہ کے لوگ یہ ارادہ کر کے آئے تھے کہ وہ آنحضرت عمے کو اپنے ساتھ لے کر جائیں گے۔اس لئے انہوں نے اسلام قبول کرتے ہی حضور علیہ اور آپ علیہ کے ساتھیوں کو مدینہ آنے کی دعوت دی۔آنحضرت علی کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی ہجرت کا اشارہ ہو چکا ہی۔صلى اللهعهم تھا۔آپ م ہے خاموش رہے لیکن حضرت عباس نے ان کی اس دعوت پر وفد سے مخاطب ہوکر کہا:۔اے خزرج کے گروہ! تم جانتے ہو کہ ہمارا خاندان ہر خطرے صلى الله کے وقت محمد ﷺ کی حفاظت کا ضامن رہا ہے اب تم انہیں یعنی محمد دینے کو