حضرت اُمِّ عمّارہ ؓ

by Other Authors

Page 4 of 25

حضرت اُمِّ عمّارہ ؓ — Page 4

حضرت ام عمارة 4 عہد ہی بیعت کے لئے کافی سمجھتے تھے۔(5) اپنے محبوب آقا حضرت محمد مال اللہ کے استقبال کے لئے اہل مدینہ کی ایک بڑی تعداد شہر سے باہر جمع تھی۔آپ ﷺ کی تشریف آوری پر انصار اور مہاجرین کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔الله ہر ایک خاندان یہ چاہتا تھا کہ اسے آپ ﷺ کی میزبانی کا شرف حاصل ہو۔آپ میں اللہ ایک اونٹنی پر حضرت ابو بکر صدیق کے ساتھ سوار تھے اور یہ قافلہ آہستہ آہستہ شہر کی طرف بڑھ رہا تھا۔راستہ میں مسلمانوں کے گھروں سے گزرتے تو وہاں کے رہنے والے جوش محبت میں بڑھ بڑھ صلى الله کر عرض کرتے تھے۔یا رسول اللہ اللہ! ہمارا گھر ہماری جان و مال حاضر ہے اور ہمارے پاس حفاظت کا سامان بھی ہے ، آپ ﷺ ہمارے پاس تشریف فرما ہوں۔آپ علیہ مسکراتے اور ان کے لئے دعائے خیر فرماتے شہر کی طرف بڑھتے جاتے تھے۔مسلمان عورتوں اور لڑکیوں نے خوشی کے جوش میں اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر گانا شروع کیا۔- طَلَعَ البَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ لَبِيَّاتِ الْوَدَاع وَجَبَ الشَّكْرُ عَلَيْنَا مَا دَعَا لِلَّهِ دَاع یعنی آج ہم پر کوہ وداع کی گھاٹیوں سے چودھویں کے چاند