حضرت اُمِّ عمّارہ ؓ — Page 18
حضرت ام عمارة 18 سامنے آیا۔تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وحشی ! میرے سامنے نہ آیا کرو۔اُس وقت وحشی نے اپنے دل میں عہد کیا کہ جس ہاتھ سے میں نے رسول خدال اللہ کے چچا کو شہید کیا تھا۔جب تک اسی ہاتھ سے اسلام کے کسی بڑے دشمن کو قتل نہ کر لوں چھین نہ لوں گا۔چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق کے عہد خلافت میں یمامہ کی جنگ میں مسیلمہ کو قتل کر کے عہد کو پورا کیا۔حضرت اُم عمارہ اپنے فرزند (حبیب) کے قاتل اور مسلمانوں کے اس بدترین دشمن کی موت پر سجدہ شکر بجالائیں۔حضرت خالد بن ولید امیر لشکر ، حضرت ام عمارہ کی فضیلت اور مرتبے سے آگاہ تھے انہوں نے بڑی تندہی سے ان کا علاج کروایا۔کچھ عرصہ بعد ان کے زخم مندمل ہو گئے لیکن ایک ہاتھ ہمیشہ کے لئے راہ خدا میں جدائی دے گیا۔(13) جب کبھی اس واقعہ کا ذکر ہوتا تو حضرت ام عمارہ حضرت خالد بن ولیڈ کی بہت تعریف کرتیں اور فرماتیں ” خالد نے بڑی غمخواری سے میرا علاج کروایا ، وہ بہت ہمدرد اور نیک انسان ہیں۔“ حضرت ام عمارہ کو سرور عالم ملے سے نہایت درجہ عقیدت تھی اسی وجہ سے وہ ہر وقت حضور علی پر اپنی جان قربان کرنے کے لئے آمادہ