حضرت اُمِّ عمّارہ ؓ — Page 17
حضرت ام عمارة 17 حضرت سالم ، مولی ابو حذیفہ اور حضرت ثابت بن قیس جیسے بڑے بڑے صحابہ کرام تھے ، مرتدین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔آخر کارلڑائی کا رخ پلٹنا شروع ہو گیا۔مسیلمہ نے جب شکست قریب دیکھی تو اپنے مریدوں سے کہا اگر اپنا نگ و ناموس بچانا ہے تو بچا لو یہ سن کر حضرت ام عمارہ نے اُسے تاک لیا اور زخم پر زخم کھاتی اور اپنی برچھی سے راستہ بناتی اُس کی طرف بڑھیں اس کوشش میں انہیں گیارہ زخم آئے اور ایک ہاتھ بھی کلائی سے کٹ گیا۔مسیلمہ کے قریب پہنچ کر اپنی برچھی سے اس پر حملہ کیا وہ انہیں قتل کرنا چاہتی تھیں کہ دو ہتھیار مسلیمہ پر ایک ساتھ پڑے اور وہ کٹ کر گھوڑے سے نیچے جاپڑا۔حضرت ام عمارہ نے نظر اٹھا کر دیکھا تو اپنے پہلو میں اپنے فرزند عبداللہ کو کھڑے پایا۔اور قریب ہی وحشی کھڑے تھے۔وحشی نے بھی اپنا حریہ مسیلمہ پر پھینکا تھا۔اور عبد اللہ نے بھی اسی وقت اُس پر تلوار کا وار کیا تھا۔(12) یادر ہے یہ وہی وحشی ہیں جنہوں نے جنگ احد میں رسول کریم علی اللہ کے چا حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا۔آنحضرت میے کو اپنے چچا سے بہت صلى الله محبت تھی۔غزوہ طائف میں مسلمان ہو کر جب وحشی رسول کریم ہے کے