تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 82

تحفه بغداد ۸۲ اردو تر جمه وَصَالَ الْحِزْبُ وَاخْتَلَسُوا كَذِتُبِ وَلَمْ يَكُ أَمْرُهُمْ إِلَّا اكْتِسَاحُ اور اس گروہ نے حملہ کر دیا ہے اور وہ بھیڑیے کی طرح جھپٹ پڑے ہیں اور نہیں تھا ان کا کام مگر سب کچھ لوٹ لینا۔وَقَدْ صُبَّتْ عَلَيْكُمْ كُلُّ رُزْءٍ فَمَا فِي بَيْتِكُمْ إِلَّا الرَّدَاحُ اور تم پر ہر مصیبت ڈالی گئی ہے۔پس تمہارے گھروں میں سوائے ظلمت کے کچھ باقی نہیں رہا۔وَكَمْ مِّنْ مُسْلِمٍ ذَابُوا بِجُوعِ وَعَاشُوا جَائِعِينَ وَمَا اسْتَرَاحُوا اور کتنے ہی مسلمان بھوک سے پگھل گئے اور بھو کے ہی رہے اور راحت نہ پائی۔۳۳ وَبَحْرُ الْعِلْمِ يَعْرِفُ مَوْجَ بَحْرِى وَلَكِنْ عِندَكُمْ مَّاءٌ وَّجَاحُ اور علم کا سمندر ہی میرے سمندر کی موج کو پہچا نتا ہے لیکن تمہارے پاس تو صرف سطحی پانی ہے۔نَظَمُتُ قَصِيدَتِى مِنْ إِرْتِجَالٍ وَ أَيْنَ الْفَضْلُ لَوْلَا الْإِقْتِرَاحُ میں نے اپنا قصیدہ فی البدیہ نظم کیا ہے اور اگر فی البدیہ کہنا نہ ہوتا تو فضیلت کیسے ہو سکتی تھی۔فَخُذْ مِنِى بِعَفْوِ كَالْكِرَامِ وَ دُونَكَ مَا هُوَ الْحَقُّ الصُّرَاحُ پس اسے مجھ سے عفو کے ساتھ شریفوں کی طرح لے لے اور جو کھلی سچائی ہے اسے حاصل کر۔وَإِنْ بَارَزُتَنِيُّ مِنْ بَعْدِ نُصْحِي فَتَعْلَمُ أَنَّنِي بَطَلٌ شَنَاحُ اور اگر تو میری نصیحت کے بعد بھی مجھ سے مقابلہ کرے تو تو جان لے گا کہ یقیناً میں بہا در جوانمرد ہوں۔۸۶