تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 81

تحفه بغداد ΔΙ اردو تر جمه أَتَقْتُلُنِي بِغَيْرِ ثُبُوتِ جُرُمٍ فَقُلْ مَا يَصُدُرَنُ مِنِّي جُنَاحُ کیا تو مجھے ثبوت جرم کے بغیر قتل کرے گا؟ سو بتا تو سہی مجھ سے کون سا گناہ صادر ہورہا ہے؟ قَتَلْنَا الْكَافِرِينَ بِسَيْفِ حُجَجِ فَلَا يُرجى لِقَاتِلِنَا فَلَاحُ ہم نے کافروں کو دلائل کی تلوار سے قتل کر دیا ہے۔پس ہمارے قتل کا ارادہ کرنے والے کے لئے کوئی کامیابی کی امید نہیں ہوسکتی۔وَلَيْسَ لَنَا سِوَى الْبَارِى مَلَاظٌ وَلَاتُرُسٌ يَصُونُ وَلَا السّلاحُ اور ہمارے لئے خدا کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی ڈھال ہے جو بچائے اور نہ ہتھیار۔أَتَعْلَمُ كَيْفَ يَسْفَعُ بِالنَّوَاصِي مَلِيفٌ لَّا يُنَاوِحُهُ الطَّمَاحُ کیا تو جانتا ہے کس طرح کھینچے گا پیشانیوں سے پکڑ کر وہ بادشاہ جس کے مقابل تکبر نہیں ٹھہر سکتا۔يَهُدُّ الرَّبُّ ذِرْوَةَ كُلَّ طَوُدٍ وَتَتْبَعُهُ الْآسِنَّةُ وَالصَّفَاحُ رب ہر ٹیلے کی چوٹی کو ڈھا دے گا اور نیزے اور تلوار میں اس کے پیچھے آئیں گے۔أَتَقْتُلُنِى بِسَيْفِ يَا خَصِيْمِيُّ وَقَتْلِى عِندَكُمْ أَمْرٌ مُبَاحُ اے میرے دشمن ! کیا تو مجھے تلوار سے قتل کرتا ہے؟ اور میر اقل تمہارے نزدیک ایک جائز امر ہے۔وَقَدْ مِتُنَا بِسَيْفٍ مِنْ حَبِيبٍ عَلى ذَرَّاتِنَا تَسْفِي الرِّيَاحُ حالانکہ ہم تو ( پہلے ہی ) محبوب کی ایک تلوار سے مر چکے ہیں اور ہمارے ذرات پر ہوائیں چل رہی ہیں۔وَأَيْنَ سُيُوفُكُمْ؟ يَا شَيْخَ قَوْمٍ وَحَلَّ بَقَاعَكُمْ حِزْبٌ شِحَاحُ اے شیخ قوم تمہاری تلواریں کہاں ہیں اور حلانکہ تمہارے صحنوں میں ایک حریص گروہ اُتر چکا ہے۔۸۵