تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 80

تحفه بغداد ۸۰ اردو تر جمه وَمِثْلِى حِيْنَ يَبْكِي فِي دُعَاءِ فَيَسْعَى نَحْوَهُ فَضْلٌ مُّتَاحُ اور میرے جیسا آدمی جب دعا میں روتا ہے تو اس کی طرف فضل مقدر دوڑ کر آتا ہے۔وَكَادَتْ تَلْمَعَنْ أَنْوَارُ شَمُسِي فَيَتْبَعُهَا الْوَرَى إِلَّا الْوَقَاحُ اور قریب ہے کہ میرے سورج کے انوار چمکیں اور پھر سوائے بے شرم کے سارا جہان ان کے پیچھے چلے گا۔(۳۲) وَيَأْتِي يَوْمُ رَبِّي مِثْلَ بَرْقٍ فَلَا تَبْقَى الْكِلَابُ وَلَا النَّبَاحُ اور میرے رب کا دن بجلی کی طرح آئے گا۔پس نہ کتے باقی رہیں گے نہ ہی ان کا بھونکنا۔وَلِيٍّ مِنْ لُطْفِ رَبِّي كُلَّ يَوْمٍ مَرَاتِبُ لِلْعِدَا فِيهَا افْتِضَاحُ اور میرے لئے اپنے رب کی مہربانی سے ہر روز ایسے مدارج ہیں کہ دشمنوں کے لئے ان میں رُسوائی ہی رُسوائی ہے۔وَنُورٌ كَامِلٌ كَالْبَدْرِتَامٌ وَوَجْهٌ يَسْتَنِيرُ وَلَا يُلَاحُ اور مجھے چودھویں کے چاند کی طرح کامل نور حاصل ہے اور ایسا چہرہ حاصل ہے جو چمکتا ہے اور متغیر نہیں کیا جا سکتا۔وَنَحْنُ الْيَوْمَ نُسْقَى مِنْ غَبُوقٍ وَبَعْدَ اللَّيْلِ عِيدٌ وَّاصْطِبَاحُ اور آج تو ہم شام کی شراب ( معرفت ) پی رہے ہیں۔اور رات گزرجانے کے بعد عید ہو گی اور پھر صبح کی شراب۔وَأَعْطَانِي الْمُهَيْمِنُ كُلَّ نُورٍ وَلِى مِنْ فَضْلِهِ رَوْحٌ وَّرَاحُ اور خدائے مُھیمن نے مجھے ہر ایک نور عطا کیا ہے اور مجھے اس کے فضل سے راحت اور آسائش حاصل ہے۔۸۴