تحفہٴ بغداد — Page 78
تحفه بغداد ZA اردو تر جمه وَ مِنْ عَجَبٍ أَشَرِفُكُمْ وَادْعُو وَمِنْكَ الْمَشْرَفِيَّةُ وَالرِّمَاحُ اور یہ عجیب بات ہے کہ میں تمہاری عزت کرتا ہوں اور تمہیں دعوت دیتا ہوں اور تیری طرف سے تلواریں اور نیزے ( دکھائے جاتے ) ہیں۔وَبَلْدَتُكُمْ حَدِيْقَةُ كُلَّ خَيْرٍ فَمِنْكُمْ سَيِّدِي يُرْجَى الصَّلَاحُ اور تمہارا شہر (بغداد) تو ہر خیر کا باغیچہ ہے۔اے جناب ! تم سے تو بہتری کی امید کی جاتی ہے۔كَمِثْلِكَ سَيِّدٌ يُؤْذِينِ عَجَبٌ وَفِي بَغْدَادَ خَيْرَاتٌ كِفَاحُ تیرے جیسا سردار مجھے ایذادے تو تعجب ہے حالانکہ بغداد میں جوق در جوق بھلائیاں موجود ہیں۔أَرَى يَاحِتٍ تَذْكُرُنِي بِسَبٍ فَمَا هَذَا؟ وَسِيْرَتُكُمْ سَمَاحُ اے میرے دوست ! میں دیکھتا ہوں کہ تو مجھے گالیوں سے یاد کرتا ہے۔یہ کیسا خُلق ہے حالانکہ تمہاری سیرت تو درگزر کرنے کی ہے۔ہے أَخَذْنَا كُلَّ مَا أَعْطَيْتَ تُحَفًا وَصَافَيْنَا وَ زَادَ الْإِنْشِرَاحُ جو کچھ تو نے دیا اسے ہم نے تحفے کے طور پر لے لیا ہے اور ہم نے دوستی کرنا چاہی اور انشراح صدر بڑھ گیا۔فَخُذُ مِنِّي جَوَابِى كَالْهَدَايَا وَلَكِنْ كَانَ مِنْكَ الْإِفْتِتَاحُ سولے مجھ سے میرا جواب تحفوں کے طور پر ہی۔لیکن ابتدا تیری طرف سے ہی ہوئی ہے۔إِذَا اعْتَلَقَتْ أَظَافِيْرِى بِخَصْمٍ فَمَرْجِعُهُ نَكَالٌ أَوْطَلَاحُ جب میرے ناخن کسی دشمن کے جسم میں گڑ جاتے ہیں تو اس کا انجام عبرت ناک سزا اور خرابی ہوتا ہے۔وَ اِنْ وَّافَيْتَنِى حُبًّا وَسِلْمًا فَلِلزُوَّارِ بُشْرَى وَ النَّجَاحُ اور اگر تو محبت اور صلح سے میرے پاس آئے تو زائرین کے لئے بشارت اور کامیابی ہے۔۸۲