تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 77

تحفه بغداد اردو تر جمه هَدَاكَ اللهُ هَلْ قَتْلِى يُبَاحُ وَهَلْ مِثْلِى يُدَمَّرُ أَوْ يُجَاحُ اللہ مجھے ہدایت دے۔کیا میرا قتل جائز ہے؟ اور کیا میرے جیسا شخص ہلاک اور تباہ کیا جائے گا؟ وَهَلْ فِي مَذْهَبِ الْإِسْلَامِ أَنِّي أَرَى خِزْيَا وَلَمْ يَثْبُتُ جُنَاحُ اور کیا مذہب اسلام میں ایسا ہے کہ میں رسوائی پاؤں جب کہ گناہ بھی ثابت نہ ہوا ہو؟ وَصِدْقِى بَيِّنٌ لِلنَّاظِرِينَا كِتَابُ اللَّهِ يَشْهَدُ وَ الصِّحَاحُ اور میری سچائی دیکھنے والوں کے لئے واضح ہے۔اللہ کی کتاب بھی گواہی دیتی ہے اور حدیث کی مستند صحاح کی کتابیں بھی۔وَمَا كَانَ الْأَذَى خُلُقَ الْكِرَامِ وَلَكِنْ هَكَذَا هَبَّتْ رِيَاحُ اور دکھ دینا شریفوں کی عادت نہیں لیکن اسی طرح سے ہوائیں چل پڑی ہیں۔وَإِنَّ الْحُرَّ يَفْهَمُ قَوْلَ حُرٍ وَتَشْفِي صَدْرَهُ الْكَلِمُ الْفِصَاحُ اور بے شک شریف آدمی شریف کی بات کو سمجھ جاتا ہے اور فصیح کلمات اس کے سینے کو شفادے دیتے ہیں۔وَلَا أَخْشَى الْعِدَا فِي سُبُلِ رَبِّي وَأَرُضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ بَدَاحُ اور میں اپنے رب کی راہوں میں دشمنوں سے نہیں ڈرتا اور اللہ کی زمین وسیع ہے۔نہایت وسیع۔لَنَا عِندَ الْمَصَائِبِ يَا حَبِيبِى رِضَاءٌ ثُمَّ ذَوُقٌ وَ ارْتِيَاحُ اے میرے پیارے! ہمیں مصائب کے وقت ( پہلے ) تسلیم و رضا، پھر ذوق اور فرحت حاصل ہوتی ہے۔فَلا تَقْفُ الْهَوَى وَانْظُرُ مَا لِي وَرَبِّي إِنَّهُ نُصْحَ قُرَاحُ (۳) تو خواہشات نفسانی کے پیچھے نہ پڑا اور میرے انجام کو دیکھ اور میرے رب کی قسم ! یقیناً یہ خالص خیر خواہی ہے۔ΔΙ