تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 76

تحفه بغداد ۷۶ اردو تر جمه كثيرة ولكن لا تنهض فرقة لقتل لیکن کوئی فرقہ دوسرے فرقے کوقتل کرنے کے فرقة وقد قال رسول اللہ صلی لئے نہیں اُٹھتا۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الله عليه وسلم : إن اختلاف نے فرمایا ہے کہ میری امت کا اختلاف رحمت أمتي رحمة۔فأطْفِءُ يا أخى ہے اس لئے اے بھائی ! اپنی آتش غیظ و غضب نارَك وأَغْمِدُ بتارک کو بجھا اور اپنی تیغ براں کو نیام میں رکھ اور جو واقتد بسنن الصالحين طريق صالحین کے ہیں انہیں اختیا ر کر۔تو ایسے لم تؤذى من يحب خير شخص کو جو خیر الوریٰ ﷺ کا عاشق ہے کیوں الوری؟ أَتَسُرُّ به روح اذیت دیتا ہے؟ کیا تو محمد مصطفی ﷺ کی روح المصطفى؟ أو تُرضی به کو خوش کر رہا ہے؟ یا اس سے ہمارے رب اعلیٰ ربَّنا الأعلى؟ فاعلم أن الله کو راضی کر رہا ہے؟ سو یاد رکھ کہ اللہ اور اُس کا ورسوله بریان من الذين رسول ایسے لوگوں سے بیزار ہیں جو ان کے اولیاء يُعادون أولياء هما فإن كنت سے عداوت رکھتے ہیں۔اگر تو ہمارے رسول کی ترجو شفاعة رسولنا فلا تؤذ شفاعت کا آرزومند ہے تو پُر خلوص محبت کرنے المحبين المصافین واتق الله والوں کو دکھ نہ دے۔اللہ سے ڈر (میں پھر کہتا ثم اتق الله ثم اتق الله ليغفر ہوں کہ اللہ سے ڈر ، ( پھر کہتا ہوں کہ اللہ سے ذنوبك ويُحِلک مقعد ڈرتا کہ وہ تیرے گناہ بخشے اور تجھے انعام یافتہ المنعمين۔أيها الإنسان الضعيف لوگوں کی مسند پر بٹھائے۔اے محتاج و ناتواں المحتاج إنّ مَقْتَ الله أكبر انسان ! یقیناً اللہ کی ناراضگی تیری ناراضگی۔من مقتک فخَف فاسه کہیں بڑھ کر ہے۔پس اس کی کلہاڑی سے ڈر اور لرزاں وتر ساں لوگوں میں شامل ہو جا۔وكن من المرتعشين۔۸۰