تحفہٴ بغداد — Page 68
تحفه بغداد ۶۸ اردو تر جمه والأحاديث كلها قد اتفقت على | جھوٹ ہے، تمام احادیث اس بات پر متفق ہیں أن المسيح الموعود من هذه که مسیح موعود اس امت سے ہوگا۔کیونکہ تشریعی الأمة فإن النبوة قد خُتِمَت وإن نبوت تو ختم ہو چکی۔اور یہ یقینی امر ہے کہ ہمارے رسول خاتم النبین ہیں۔رسولنا خاتم النبيين۔والنزول في الحديث بمعنى حدیث میں لفظ نزول ، مسافر کے ایک جگہ نزول المسافر من مكان إلى سے دوسری جگہ جا کر اترنے کے معنوں میں آیا ہے مكان فإن النزيل هو المسافر فلو کیونکہ نزيل مسافر کو کہتے ہیں۔پس اگر حدیث کی سلم صحة الحديث فيثبت أن صحت کو تسلیم کیا جائے ،تو اس سے یہ ثابت ہو جاتا المسيح الموعود أو أحد من خلفائه ہے کہ مسیح موعود (خود) یا اُس کے خلفاء میں سے يسافر من أرض وينزل بدمشق کوئی ایک اپنے وطن سے سفر کرے گا اور کسی وقت في وقت من الأوقات فلم يبكون دمشق میں نزول فرما ہوگا۔پھر ( نہ جانے ) کیوں یہ الناس على لفظ دمشق؟ بل يثبت لوگ دمشق کے لفظ پر واویلا کرتے ہیں؟ بلکہ دمشق من لفظ النزول عند منارة کے منارے کے پاس نزول کے الفاظ سے تو یہ دمشق أن وطن المسيح الموعود ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود کا وہ وطن جس میں آپ الذي يخرج فيه هو مُلک آخر کا ظہور ہو گا، کوئی دوسرا ملک ہے اور دمشق میں وإنما ينزل بدمشق بطریق آپ محض مسافروں کی صورت میں نازل ہوں | المسافرين۔هذا إذا سلمنا گے۔یہ مفہوم تب لیا جائے گا۔جب ہم حدیث الحديث بألفاظه وفيه کلام کو اس کے الفاظ کے ساتھ تسلیم کریں اور یہ مفہوم لأن الأحاديث من الظنيات محل نظر ہے کیونکہ احادیث ظنیات میں سے ہیں إلا الحصة التي ثبتت من سوائے اس حصہ کے جو مومنوں کے تعامل سے ۷۲