تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 69

تحفه بغداد تعامل المؤمنين۔۶۹ ثابت ہو۔اردو تر جمه ولو كانت الآثار المدونة في اور اگر وہ روایات جو بخاری وغیرہ میں البخاري وغيره من اليقينيات مدون ہیں وہ قرآن کریم کی طرح یقینی امور كالقرآن الكريم للزم من إنكارها میں سے ہوتیں تو ان کے انکار سے اسی طرح الكفر كلزوم الكفر من إنكار آيات كفر لازم آتا جیسے قرآنی آیات کے انکار سے القرآن كما لا يخفى على الماهرين کفر لازم آتا ہے۔جیسا کہ یہ امر شرع متین في الشرع المتين۔فحينئذ يلزم کے ماہرین پر مخفی نہیں تو ایسی صورت میں تمام أن يكون المسلمون كلهم كافرين مسلمانوں کا کافر ہونا لازم آتا اور یہ بھی لازم ويلزم أن لا ينجو من ورطة الكفر آتا کہ مسلمانوں کے بڑوں اور چھوٹوں بلکہ ائمہ أحد من أكابر المسلمين وأصاغرهم سلف متقدمین میں سے کوئی بھی کفر کے گرداب بل من الأئمة السابقين المتقدمین سے محفوظ نہ رہے۔کیونکہ بعض احادیث کو ترک لأن ترك بعض الأحاديث وإنكار کرنا اور کچھ دوسری احادیث کا انکار کرنا ایک بعضها بلاء" عام أحاطت الفقهاء ایسی عام مصیبت ہے جس نے تمام فقہاء ، ائمہ والأئمة والمحدثين أجمعين۔اور محمد ثین کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔و مع ذلك۔إذا كان نبينا بایں ہمہ جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم (۲۸ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں تو پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ جو شخص الأنبياء فلا شك أنه مَنْ آمَنَ بھی اس مسیح کے نزول پر ایمان لاتا ہے جو بنی بنزول المسيح الذي هو نبى من اسرائيل کا نبی ہے تو اُس نے خاتم النبین کا انکار بنى إسرائيل فقد کفر بخاتم کیا۔سو ایسے لوگوں پر افسوس جو یہ کہتے ہیں کہ مسیح النبيين۔فيا حسرة على قوم عیسی ابن مریم ، رسول اللہ (ﷺ) کی وفات ۷۳