تحفہٴ بغداد — Page 60
تحفه بغداد اردو تر جمه كنتُ کنزا مخفيًّا فأحببت أن جنہوں نے کفر کیا کھلی گمراہی میں ہیں۔میں ایک خزانہ أعرف۔إن السماوات والأرض پوشیدہ تھا پس میں نے چاہا کہ ظاہر کیا جاؤں۔آسمان كانتا رَتْقًا فَفَتَقْنا هما۔قل إنما اور زمین بند گٹھڑی کی طرح تھے پس ہم نے ان کوکھول أنا بشر يوحى إلى أنما إلهكم دیا۔کہہ میں محض ایک بشر ہوں جس پر وحی کی جاتی إلة واحد والخير كله في ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک ہے اور تمام بھلائی اور نیکی قرآن میں ہے اور اس کے اسرار تک وہی پہنچ سکتے القرآن لا يمسه إلا المطهرون۔ہیں جو پاک دل ہیں۔اور میں نے اس سے پہلے ایک عمر تم میں بسر کی ہے پس کیا تم سوچتے نہیں۔کہو اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے اور میرا رب میرے ساتھ هو الهدى وإن معى ربى ہے وہ ضرور میرے لئے رستہ نکالے گا۔اے میرے سيهدين۔رب اغفر وارحم من رب بخش اور آسمان سے رحمت نازل کر۔اے ولقد لبثتُ فيكم عمرًا مِن قبله أفلا تعقلون۔قل إن هدى الله السماء۔رب إني مغلوب فانتصر۔إيلى إيلى لما سبقتاني۔میرے رب ! میں مغلوب ہوں تو میرے دشمن سے انتقام لے۔اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے يا عبد القادر إني معك أسمع مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ اے عبد القادر! میں تیرے وأرى غرست لک بیدی ساتھ ہوں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔میں نے اپنے رحمتي وقدرتى و إنك اليوم ہاتھ سے اپنی رحمت اور قدرت کا درخت تیرے بقية الحاشية صوت منادینادی بقیہ حاشیہ۔پہاڑ ، پہاڑ۔جس پر ہم پہاڑ کے الجبل مـــــرتــيــن فلحقنا ساتھ ہو گئے۔(اور ایسا حملہ کیا کہ ) ہم اپنے بالجبل فلم نزل لعدوّنا دشمن پر غالب آتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالٰی قاهرين حتى هزمهم الله تعالی نے انہیں ہزیمت سے دو چار کر دیا اور (ہم نے ) وتراءى فتح مبین ۱۲ المؤلف فتح مبین پائی۔۱۲ المؤلف ۶۴