تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 61

تحفه بغداد ۶۱ اردو تر جمه لدينا مكين أمين۔أنا بُڈک لئے لگایا اور تو آج ہمارے نزدیک صاحب مرتبہ اللازم أنا محییک نفخت اور امین ہے۔میں تیرا لا زمی چارہ ہوں۔میں تجھے فیک من لدنى روح الصدق زندہ کرنے والا ہوں۔میں نے اپنی طرف سے راستی کی روح تجھ میں پھونکی۔اور میں نے تجھ پر وألقيت عليك محبة منى اپنی جناب سے محبت ڈال دی اور ایسا کیا کہ تُو میری آنکھوں کے سامنے تیار کیا جائے۔اس کھیتی کی ولتصنـع عـلـى عينى كزرع أخرجَ شَطأه فَآزَرَه فاستغلظ طرح ہے جو اپنی کو نیل نکالے پھر اسے مضبوط کرے فاستوى على سوقه إنا فتحنا پھر وہ موٹی ہو جائے اور اپنے ڈنٹھل پر کھڑی ہو لک فتحا مبینا ليغفرلک جائے۔ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح دے دی تا اللہ تیری الله ما تقدَّم من ذنبك وما طرف منسوب کر دہ غلطیوں کو چاہے پہلی ہوں یا پچھلی تأخر فكن من الشاكرين مٹادے۔پس تو شاکرین میں سے ہو جا۔کیا اللہ أليس الله بکاف عبده۔أليس اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ شکر الله عليمًا بالشاكرين فقبل کرنے والوں کو جاننے والا نہیں؟ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ کو قبول فرمالیا اور لوگوں کی جھوٹی تہمتوں الله عبده وبرأه مما قالوا وكان سے بری ثابت کیا اور وہ اپنے اللہ کے نزدیک وجیہ عند الله وجيها۔فلما تجلى ہے اور جب خدا مشکلات کے پہاڑ پر سجتی کرے گا تو ربه للجبل جعله دَكا والله اسے پاش پاش کر دے گا اور اللہ کا فروں کی تدبیر کو مُوهِنُ كيد الكافرين۔ولنجعله ست کر دے گا اور تا کہ ہم اسے لوگوں کے لئے آية للناس ورحمة منا ولنعطيه نشان اور اپنی طرف سے رحمت بنا ئیں اور تا کہ ہم لدنا و کذلک نجزی اسے اپنی طرف سے بزرگی عطا کریں اور ہم اسی لسنين۔أنت معى أنت معى طرح محسنوں کو جزا دیا کرتے ہیں۔تو میرے ساتھ مجدًا