تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 59

تحفه بغداد ۵۹ اردو تر جمه ربک فعّال لما یرید تیری طرف واپس لائیں گے۔تیرا رب جو چاہتا فضل من لدنا ليكون آية ہے کرتا ہے۔یہ ہمارا فضل ہے تا دیکھنے والوں کے للناظرين۔شاتان تُذبحان لئے ایک نشان ہو۔دو بکریاں ذبح کی جائیں گی اور وكل من عليها فان ونريهم روئے زمین کے سب لوگ فنا ہونے والے ہیں۔آياتنا في الآفاق وفى أنفسهم و اور ہم انہیں اردگرد اور خود اُن کی ذات میں نشان نريهم جزاء الفاسقين۔إذا جاء دکھائیں گے اور انہیں ہم نافرمانوں کی سزا ( کا نصر الله والفتح وانتهى أمر نمونہ دکھا ئیں گے۔جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح الزمان إلينا أليس هذا بالحق بل آئے گی اور زمانہ ہمارے طرف رجوع کرے گا (اس الذين كفروا فی ضلال مبین دن کہا جائے گا کہ ) کیا یہ حق نہ تھا؟ بلکہ وہ لوگ بقية الحاشية إذ ناديت : " يا ساريه بقیه حاشیه - بخدا مجھے اپنے اوپر اختیار نہ رہا کہ جب میں الجبل۔أى شيء هذا ؟ قال : والله نے ساریہ اور اس کے ساتھیوں کو پہاڑ کے قریب (دشمن) ما ملكت ذلك حين رأيت سارية سے لڑتے ہوئے دیکھا کہ (دشمن ) ان پر سامنے سے بھی وأصحابه يقاتلون عند جبل اور پیچھے سے بھی حملہ کر رہا ہے۔تو ( یہ دیکھ کر ) مجھے اپنے ويُؤتون من بين أيديهم و من آپ پر قابو نہ رہا اور میں نے بے اختیار يا سارية خلفهم فلم أملك أن قلتُ : الجبل کے الفاظ کہے۔تا کہ وہ پہاڑ کے ساتھ ہو يا سارية الجبل ليلحقوا بالجبل جائیں۔(اور اپنے آپ کو محفوظ کر لیں) ابھی چند م تمض الأيام حتى جاء روز ہی گذرے تھے کہ ساریہ کا اینچی اس کا خط لے کر آیا کہ رسولُ سارية بكتابه أن (جس میں یہ لکھا تھا کہ ) جمعہ کے روز دشمن سے ہمارا القوم لقونا يوم الجمعة سامنا ہوا تو ہم نے صبح کی نماز سے لے کر جمعہ کے وقت فقاتلناهم من حين صلينا الصبح تک ان سے جنگ کی۔تو عین اس وقت ہم نے ایک إلى أن حضرت الجمعة فسمعنا | پکارنے والے کی آواز سنی جو باآواز بلند یہ کہہ رہا تھا کہ لم ۶۳